ؑؑغزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

//ؑؑغزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

سیدصبغۃ اﷲ شاہ سہروردی

خیرو شر اور حق وباطل ایسے دو افکار واذہان ہیں جن کا ازل سے مقابلہ جاری ہے اور ابد تک رہے گا اسی لیے حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا تھا کہ :

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

فرعون و یزید کسی ایک فرد کا نا م نہیں ہے بلکہ یہ برائی کے اس ذہن اور شر کی اس فکر کا نا م ہے جس نے ہردور میں ہمیشہ باطل او راہل باطل کی نمائندگی کی ہے کبھی یہ شر انگیز فکر نمرود کی صورت میں اہل حق سے مقابلہ کرتی ہے تو کبھی فرعون کی شکل میں کبھی ابو جہل و ابو لہب کے بھیس میں اور کبھی یزید جیسے فاسق آدمی کی صورت میں یہ مذموم فکر ریحانتہ الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم ) سے ٹکر لیتی ہے مگر زمانہ اور تاریخ گواہ ہیں کہ یہ باطل قوتیں دو دن کی عارضی نمود و نمائش کے بعد ہمیشہ کے لیے نیست و نا بود ہوگئی ہیں جبکہ حق اور اہل حق ہمیشہ ممتاز و سرفراز رہے ہیں اور قیامت تک اہل حق کے جوقافلے بھی آئیں گے ا ن شاء اللہ آنحضو ر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعلین پاک کے طُفیل اسی طرح مقدم و محتشم رہیں گے         اگر ہم اسلامی تاریخ کی ورق گردانی کریں تو حق و باطل کا پہلا معرکہ ۱۷ رمضان المبارک   ۲؁ہجری ۱۳مارچ ۶۲۴عیسوی کو بدر کے مقام پر پیش آیا ہے جو غزؤ بدر کے نام سے مشہور ہے اگر ہم اس کے پس منظر پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ اِسلام اور آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دشمنی میں تمام حدیں پار کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ اور کوئی معمولی سا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اور اُن کے وطن یعنی مکّہ کو چھوڑ کر سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تین سو میل دور چلے گئے تھے لیکن پھر بھی وہ ہر لمحہ ہر گھڑی اپنی دشمنی کی آگ بجھانے کے منصوبے تیار کرتے رہتے تھے ۔چنانچہ پہلے جب مسلمان حبش جا رہے تھے تو قریش نے ان پر حملہ کیا اور گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن درمیان میں سمندر اور اُس علاقے کے حاکم کی وجہ سے وہاں زیادہ کارروائی نہ کر سکے بعد ازیں قریش نے خفیہ سازشوں سے مدینہ کے یہودیوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا اور مسلمانوں کو پیغام بھیجا کہ ہم وہیں پہنچ کر تمہارا خاتمہ کردیں گے اور اس پیغام کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایذارسانی کی مہم شروع کر دی۔

ربیع الاوّل  ۲ھ؁ کو سرداران قریش میں سے کر زبن جابر الفہرنامی سردار اپنے ساتھیوں سمیت مدینہ پہنچا اور اہل مدینہ کے مویشی لوٹ کر لے گیا اِس کے بعد رمضان المبارک ۲ھ؁ میں ابو جہل نے ایک سازش کے تحت افواہ پھیلا دی کہ شام سے واپس آنے والے ہمارے تجارتی قافلے پر مُسلمان حملے کی تیاری کر رہے ہیں اس افواہ سے مقصود یہ تھا کہ وہ تمام لوگ جن کا مال ساتھ تھا اپنے مال کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کے خلاف متحد ہوجائیں اور یہ منصوبہ کافی حد تک کامیاب رہا ۔چنانچہ ابو جہل نے ایک لشکر تیا رکیا اور طے شدہ منصوبے کے تحت ابو سفیان کے پیغام کا انتظا ر کرنے لگا ۔اِدھر مسلمانوں نے قریش مکہ کے عزائم بھانپ لیے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے چنانچہ جب آنحضور صلی اللہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت کیا اور مشورہ طلب کیا تو انہوں نے ہر طرح کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی اِسی طرح مہاجرین نے بھی ہر قدم پر ساتھ دینے کا وعدہ فرمایا اور انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم ہر حال میں آپ کے ساتھ ہیں کسی صورت بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ہمارے مال میں سے جو چاہے آپ خرچ کریں ہم آپ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم ) کے حُکم کی تعمیل میں سمندر میں بھی کود پڑیں گے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم ) ہم حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح نہیں ہیں کہ جس طرح انہوں نے کہا تھا کہ’’ تم جانو اور تیرا خدا دونوں لڑو ہم تو یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں ‘‘بلکہ ہم ہر مہم میں آپ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم ) کے ساتھ ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حوصلہ افزاباتیں سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم بہت شاد و مسرور
ہوئے اِسلام میں اب تک کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی کیونکہ اِسلام کا مطلب صلح اور امن و آشتی ہے اِس لیے جو مذہب سراپا رحمت اور امن کا علمبردار ہو وہ کیسے لڑائی کر سکتا تھالیکن جب قریش مکہ کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں اور وہ جنگ میں پہل کرنے لگے تو مسلمانوں کے لیے اپنا دفاع بہت ضروری ہوگیا تھا چنانچہ سرور عالم ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم ) کی دعوت پر تقریباً تین سو تیرہ مسلمان جمع ہوئے جن میں سے تقریباً چھیاسی مہاجرین اکسٹھ قبیلہ اوس اور ایک سو ستر قبیلہ خزرج کے لوگ تھے جبکہ سامان میں مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے اور ساٹھ اونٹ تھے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے اپنے لشکر کے لیے سفید جھنڈا بنوایا جو حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا جبکہ انصار کا جھنڈا حضرت سعدبن معاذرضی اللہ عنہ کے پاس اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس تھاجبکہ میمنہ کی کمانڈ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئی اور سیرہ کی حضرت مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ کے اور مدینۃ المنورہ کا انتظام حضرت ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کے ذمے سونپا گیا لیکن جب آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم رُوحاء کے مقام پر پہنچے تو مدینۃ المنورہ کے انتظامی معاملات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘اگر ہم بدر کا محل وقوع دیکھیں تو یہ مدینہ شریف سے جنوب مغرب میں ایک سو پچاس کلو میٹر کی مسافت پر ہے اور یہ مقام پہاڑوں کے وسط میں ہے اور یہاں آمدو رفت کے تین راستے ہیں جنوبی طرف سے آنیوالا راستہ العدوۃ القصویٰ اور شمالی طرف سے آنے والا راستہ العدوۃ الدنیا‘‘کے نام سے موسوم ہے جبکہ تیسرا راستہ العدوۃ الدنیا کے قریب ہی مشرقی جانب ہے جسے اہالیان مدینہ اختیار کرتے تھے چونکہ سر سبز و شاداب تھا اور پانی کا بھی انتظام تھا اس لیے لشکر بھی وہاں قیام کرتے تھے چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم اپنے لشکر کے ہمراہ مدینے سے روانہ ہوئے لیکن روحا ء سے آگے آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے اس طرح راستہ اختیار فرمایا کہ مکہ کا راستہ بائیں جانب چھوڑ دیا اور دائیں جانب چلتے ہوئے نازیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں سے مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سّلم وادی صفرا کے قریب جا پہنچے اور وہاں سے لبیس بن عمر اور عدی بن الزغباء کو جو قبیلہ جہینہ سے تعلق رکھتے تھے روانہ فرمایا کہ بدر کے حالات کا پتہ لگاؤ دوسری طرف ابو سفیان جو شام سے آنے والے قافلے کا سربراہ تھا جس میں ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی مالیت کا سامان تھا لیکن نگرانی پر صرف چالیس آدمی مامور تھے اسے پتہ چل گیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم اپنے لشکر کے ہمراہ روانہ ہوچکے ہیں چونکہ اہل عرب بڑے صاحب فراست تھے اس لیے ابو سفیان نے اندازہ کر لیا کہ مکے کی طرف جانے کے لیے مجھے راستہ تبدیل کرنا چاہیے چنانچہ اُس نے فوراً قافلے کو دوسرے راستے کا حُکم دیا اور کمال چالاکی و ہوشیاری سے اپنے تیز رفتار ایلچی ضمضم بن عمرو غفاری کو پیسے کی لالچ دے کر قریش مکہ کو پیغام بھیجا کہ قافلے پر حملہ ہونے والا ہے فوراً ہماری مدد کے لیے پہنچو جیسے ہی ضمضم مکے پہنچا اورمنادی کی تو پہلے سے تیارشدہ تمام لشکرابو جہل کی سربراہی میں ابو سفیان کی جانب چل پڑا لیکن قریش کا یہ لشکر جب ’’جحفہ‘‘ کے مقام پر پہنچا تو انہیں ابو سفیان کا پیغام ملا کہ میں خیریت سے ہوں اب کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا تم واپس چلے جاؤ ۔لیکن ابو جہل واپس جانے پر کسی طرح بھی راضی نہ ہوا ابتدا میں قریش مکہ کے لشکر میں تیرہ سو افراد ایک سوگھوڑے چھ سو زر ہیں اور کثیر تعداد میں اونٹ تھے اور نو سرداران تھے جبکہ سپہ سالار ابو جہل تھا لیکن جب ابو جہل واپس جانے پر راضی نہ ہوا تو رئیس اخنس بن شریق ثقفی اپنے تین سو آدمیوں کے ہمراہ واپس چلا گیا اب ایک ہزار قریش نے عدوۃ القصوٰی کے مقام پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ‘دوسری طرف آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم کو بھی علم تھا کہ قریش مکہ سے روانہ ہوچکے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے اپنے صحابہ کرام سے ایک بار پھر مشورہ کیا اور تمام جان نثاران رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم) نے لبیک کہا ۔مسلمانوں نے بدر کے مقام پر پہنچ کر العدوۃ الدنیا کی جانب اترنا چاہا لیکن حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے کے مطابق دشمن کے چشمے کے قریب مسلمانوں نے پڑاؤ ڈال دیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم کے لیے ایک چبوترہ بنایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم کی حفاظت کے لیے انصار کے چند پہریدار مقرر کیے جس کی سربراہی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کررہے تھے چنانچہ جنگ سے ایک روز قبل آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے میدان جنگ کا دورہ کرتے ہوئے فرمایا ۔اِن شاء اللہ فلاں دشمن اس جگہ قتل ہوگا اور فلاں اس جگہ قتل ہوگا ۔بعدازیں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم اﷲکے حضور سجدہ ریز ہوئے اُسی رات اللہ نے بارش برسائی جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے اور تمام مسلمان پر سکون تھے چنانچہ ۱۷ رمضان المبارک   ۲ھ؁  بروز جمعۃ المبارک کی صبح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے بارگاہ خدا وندی میں دعا کی اور عرض کیا کہ یا اللہ :اگر یہ مسلمان مارے گئے تو دنیا پر تیری توحید کا پرچار کرنے والا کوئی بھی نہیں رہے گا ‘بالآ خر جنگ کا آغاز ہوا کُفار کی طرف سے عتبہ ،شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان میں آئے چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو اور حضرت علی کرم اللہ وجیہہ الکریم نے ولید کو قتل کیا جبکہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ نے ایک دوسرے کو زخمی کر دیا ۔بعد ازیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجیہہ الکریم نے عتبہ کو بھی قتل کر دیا ۔چنانچہ جنگ اپنے عروج پر چلی گئی اور کفار و مشرکین کی مسلمانوں نے صفیں الٹ دیں ۔ چنانچہ مشرکین کو بہت بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ابو جہل جیسے کافر اعظم اور متکبر شخص پردو کم سن بھائیوں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت معوذ رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا اور اسے بری طرح زخمی کر دیا ابھی تھوڑی سی سانس باقی تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس دشمن رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم) کی گردن کاٹ دی اور یوں اللہ نےمسلمانوں کو سرفراز فرمایا اس غزوہ میں سوائے حضرت سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جو اپنی اہلیہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم) کی صاحبزادی حضرت بی بی سیّدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے باعث شریک نہیں ہوسکے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اس قدر ثواب ملے گا جیسا باقیوں کو ملے گا )تمام کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شرکت فرمائی تھی ۔

اِسلام و کفر کے اس معرکے میں چھ مہاجرین اور آٹھ انصار کل چودہ مسلمانوں نے شہادت پائی اور ان کو وہیں دفن کیا گیا جبکہ کفار کے ستر افراد واصل جہنم ہوئے اور ستر آدمی گرفتار ہوئے اہل مدینہ کو فتح کی خوشخبری پہنچانے کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا جیسے ہی مدینۃ المنورہ یہ خبر پہنچی تمام مسلمان خوشی سے جھوم اٹھے ۔

 غزو بدر کفر و اسلام کا پہلا معرکہ تھا اس لیے اگر خدا نخواستہ مسلمانوں کو شکست ہوتی تو مسلمان بہت زیادہ مایوسی کا شکار ہوتے اور نفسیاتی طور پر بھی کچھ اچھا اثر نہ پڑتا اور شاید لوگ اس طرح جوق در جوق حلقہ بگوشِ اسلام نہ ہوتے جس طرح غزو بدر کے بعد ہوئے تھے ۔فتح یاب ہونے کے بعد لوگوں کے دلو ںمیں اسلام کی شان وشوکت دو بالا ہوگئی ‘نئے لوگ اِسلام کی طرف کھینچے چلے آئے مزید پیش آنے والی فتوحات میں کافی حد تک آسانی پیدا ہوگئی دیگر معاملات کے لیے بھی ماحول ساز گار ہوگیا دوسری طرف کفار اور مشرکین بھی اسلام کی حشمت و ہیبت سے خوفزدہ ہوگئے اور ایک بات وہ سمجھ گئے کہ ان کو نصرت ایز دی حاصل ہے ۔الغرض عالم عرب نے دونوں گروہوں کا مشاہدہ کیا اور جان گئے کہ مسلمان روحانی و باطنی طور پر سب سے زیادہ طاقتور ہیں اس لیے رفتہ رفتہ گھٹنے ٹیکنے لگ گئے ان تمام واقعات و حالات سے آج کے مسلمان کو جو درس ملتاہے وہ یہی ہے کہ کبھی بھی حق و صداقت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور کفر و باطل کا حکمت عملی سے مقابلہ کرنا چاہیے اور اپنے مذہب و مشرب اور باالخصوص اساسِ اسلام یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم کی ناموس اور ذات پاک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان چیزوں میں ہی ہماری دنیوی و اخروی نجات ہے اور ان سُنہری نقوش پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم بارگاہ الٰہی میں سرخرو اور کامیا ب ہوسکتے ہیں ۔

فضائے  بدر   پیدا  کر   فرشتے   تیری   نصرت  کو
اتر  سکتے  ہیں گردوں  سے  قطار  اندر  قطار  اب  بھی

No comments yet.

Leave a comment

Your email address will not be published.