حضر ت دائود علیہ السلام

//حضر ت دائود علیہ السلام

تحریر: پیر محمد عارف ہزاروی

    حضرت دائود علیہ السلام یہود ابن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جب تحت پر بیٹھے اس کے چالیس برس بعد ان کو نبوت ملی اور اللہ تعالیٰ نے اتنی قوت دی کے اُس وقت کا کوئی بادشاہ ان کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ قرآن میں ہے (ہمارے بندے دائود کو جو صاحب قوت تھا اور ہماری طرف رجوع کرنے والا اور ہمارا ذکر کرنے والا تھا )ایک اور جگہ قرآن میں ذکر ہے (اور زور دیا ہم نے اس کی سلطنت کو اور ہم نے اس کو حکمت بھی عطا کی اور فیصلہ کرنے والی بات کا ملکہ بھی دیا )اسی طرح حضرت دائود علیہ سلام کے بارے میں قرآن میں ہے (کہ اے دائود تحقیق ہم نے کہا ہے تجھ کو خلیفہ زمین میں پس تو حکم کر درمیان لوگوں کے حق سے ساتھ اور اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی مت کر اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم کو گمراہ کر دے گی )اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا خوش آواز کیا تھا جب وہ اپنی آسمانی کتاب زبور کو پڑھتے تو ان کی خوش الحانی سے بہتا پانی بھی تھم جا تا تھا۔ زمین پر چلتے ہوئے پرندے جانور ہوا میں اُڑتے ہوئے پرندے آپ کی آواز سن کر رُک جاتے اور کئی بے ہوش ہو جاتے تھے درختوں کی پتیاں بھی زرد ہو جاتی تھی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کا معجزہ تھا اللہ تعالیٰ انبیاء اکرام پر صحیفے اور کتابیں اُتاری۔اللہ تعالیٰ نے پہلی کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی دوسری کتاب زبور حضرت دائود علیہ السلام پر نازل کی تیسری کتاب انجیل حضرت عیسیٰ علیہ سلام پر نازل کی گئی چوتھی کتاب قرآن مجید محبوب رب العالمین رحمتہ اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی۔ محدثین لکھتے ہیں چاروں کُتب رمضان شریف کے مہینے میں نازل ہوئیں ۔حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی کہ آپ پتھر پکڑتے یا لوہا پکڑتے تو وہ موم ہو جاتا تھا ۔قرآن پاک میں ہے (اے پہاڑوں اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اے پرندوں اور اس کے ساتھ کتاب زبور کو بھی پڑھا کرو)حضرت دائود علیہ سلام جب ذکر کرتے تو پہاڑوں میں جنبش آجاتی زبور پڑھتے وقت حضرت دائود علیہ سلام کی آوازچالیس فرسنگ تک پہنچتی تھی ۔اس آواز سے کافرلوگ بے ہوش اور مردہ ہو جاتے تھے یہ در حقیقت ان کی نبوت کا معجزہ تھا ۔دوسرا معجزہ جس کا اوپر ذکر کیا قرآن پاک میں ہے (اور نرم کیاہم نے دائود کے لیے لوہا یعنی ان کے ہاتھ میں آتے ہی مثال نرم ہو جاتا تھا )اور بغیر کسی آلہ یا ہتھیار اور بے آتش کے ہاتھ سے کڑیاں زرہ بناتے تھے اور لوگوں کو فروخت کرتے تھے ایک روایت میں ہے لوہے کی زرہ حضرت دائود علیہ سلام نے ایجاد کی ۔ قرآن میں ایک اور جگہ آیا ہے اور ہم نے ایسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سیکھایا کہ انجانے زخمی ہونے سے تم کو لڑائی سے۔ایک زرہ اس وقت چارسو درہم میں فروخت ہوتی تھی آپ کا معمول تھا آپ دو سو درہم محتاجوں کو دے دیتے تھے ایک سو درہم عقارب کو دیتے تھے ایک سو درہم اپنی عبادت اور غذا میں صرف کرتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کے اوقات کو اسی طرح صرف کیا تھا چند روز عبادت الہی میں مصروف رہتے چند روز لوگوں کا انصاف کرتے چند روز اپنے کام میں مصروف رہتے ۔حضرت دائود علیہ سلام نے اللہ کی توحید اور رسالت کے بارے میں حکم خدا وندی اپنی حکومت میں ہر غریب کا خیال رکھا آپ کے بارے میں قرآن پاک میں بہت کچھ ہے چند سطور میں بیان کرنا مشکل ہے لکھتے ہوئے بڑی کتاب بن جائے گی ۔جامع التاریخ میں لکھا ہے کہ آپکی عمر ایک سو بیس برس کی تھی آپ اپنے عبادت خانے میں بیٹھے تھے ملک الموت آیا حضرت دائود علیہ سلام نے پوچھا تم کیوں آئے ہو ملک الموت نے کہا آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں ۔حضرت دائود علیہ سلام نے ملک الموت سے کہا کہ مجھ کو دو رکعت نماز پڑھنے کی مخلت دو آپ کے جواب میں ملک الموت نے کہا خدا کا حکم نہیں ہے آپ کو ابھی جانا ہے یہ کہہ کر اُن کی جان قبض کر لی ۔جیسے کے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (پس جب آتا ہے وقت اُن کی نہیں ایک ساتھ اور نہ آگے نکل جاتے ہیں )بعد وفات کے حضر ت سلمان علیہ السلام نے تعزیت اور اُن کی تجہیز و تکفین کی موت کا وقت مقرر ہے اور موت ہی انسان کی اُس وقت تک بہت بڑی مخافظ ہوتی ہے جب تک موت کا وقت نہیں آتا ۔ اے دوستوں نماز پڑھیں تقویٰ اختیار کر لیں نیک لوگوں کے پاس بیٹھیں اور دل میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عشق کی شمع روشن کریں ۔

Comments are closed.