Islam

/Islam

یکم مئی2017ء بمطابق 4 شعبان بروز پیر

آیت مبارکہ

فرمادیجئے : میںاس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کو ئی اجرت نہیں مانگتا مگر ( اپنی اور اللہ کی ) قرابت و قربت سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھادیں گے ۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے۔ (الشوریٰ )

حدیث مبارکہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں (۱) کتاب اللہ  (۲) میرے اہل بیت  ان سے اپنا تعلق مضبوط کرلو فلاح پا جائو گے ۔ (مسند امام احمد )

متبر ک قول

حضرت علی المرتضی وجہہ الکرم کا قول مبارک ہے کہ
عقل مندہمیشہ غم اور فکر میں مبتلا رہتا ہے ‘‘( نہج البلاغہ )’’

حضر ت دائود علیہ السلام

تحریر: پیر محمد عارف ہزاروی

    حضرت دائود علیہ السلام یہود ابن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جب تحت پر بیٹھے اس کے چالیس برس بعد ان کو نبوت ملی اور اللہ تعالیٰ نے اتنی قوت دی کے اُس وقت کا کوئی بادشاہ ان کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ قرآن میں ہے (ہمارے بندے دائود کو جو صاحب قوت تھا اور ہماری طرف رجوع کرنے والا اور ہمارا ذکر کرنے والا تھا )ایک اور جگہ قرآن میں ذکر ہے

ؑؑغزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

سیدصبغۃ اﷲ شاہ سہروردی

خیرو شر اور حق وباطل ایسے دو افکار واذہان ہیں جن کا ازل سے مقابلہ جاری ہے اور ابد تک رہے گا اسی لیے حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا تھا کہ :

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید