• اخلاق وآداب

مسئلہ فلسطین اور ملت اسلامیہ کی ذمہ داریاں


مسئلہ فلسطین اور ملت اسلامیہ کی ذمہ داریاں
ہر سال 29نومبرکو اہل فلسطین سے یکجہتی کا عالمی دن منایا جاتا ہے 
تحریر :مفتی محمد رمضان جامی
 


آج کل جو حالات ارض مقدس فلسطین میں رونما ہورہے ہیں اس سے کون نہیں واقف؟ بچہ بچہ بلکہ بوڑھا بوڑھا اس بات سے واقف ہے کہ وہ جگہ جہاں اللہ کے برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام کا اجتماع ہوا تھا، وہ جگہ جہاں امام الانبیاء ، خاتم النبیین ﷺ نے امامت کرائی۔وہ جگہ جس کا ذکر قرآن میں ہے، وہ جگہ جس کا ذکر حدیث ِ مبارکہ میں ہے، وہ جگہ جسے خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فتح کیا تھا، وہ جگہ جسے فاتح اعظم صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے آزاد کیا تھا، آج اسی جگہ کچھ تشدد پسندوںنے قبضہ کر لیا ہے۔اور وہاں کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، دن دیہاڑے بم کے بوچھاڑ کئے جارہے ہیں، مسجد کے مقتدیوں پر گولیوں کے انبار برسائے جارہے ہیں، مسلم پردہ نشینوں کو ہلاک کئے جارہے ہیں۔
تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائیوں کی مدد کریں، وہ اپنی ارض مقدس کی حفاظت کریں، وہ اپنے قبلہ اول کی حفاظت کریں۔اب ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے فلسطینی بچے اور بچیوں کے تعلق سے، بوڑھے اور جوان کے تعلق سے، مظلوم اور بے بس کے تعلق سے ہم سب پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اس لئے مسئلہ فلسطین کے سلسلہ میں ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو باشعور بنانے اور ان پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لئے مسلمانانِ عالم کو چند باتوں پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
امت مسلمہ جسد واحد: پہلی بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں موجود امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ھے۔ ہمارے آقا امام الانبیاء ﷺ کا فرمان ہے کہ’’ آپسی محبت ہمدردی و خیر خواہی میں سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں،جس کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم متأثر ہوجاتا ہے۔ ‘‘(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
گویا حقیقی مسلمان وہ ہوتا ہے جو سارے عالم کے مسلمانوں کے بارے میں فکر مند رہتا ہے،اور دنیا مختلف گوشوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی تشدد کی پر زور مخالفت کرتا ہے اور اس ظلم سے انھیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمارا یہ شعور کمزور پڑ چکا ہے، آج بہت مسلمان اس فکر سے بے گانہ ہو چکے ہیں، انہیں دوسرے مسلمانوں کی کوئی فکر ہی نہیں رہی، اس لئے آج اس بات کی از حد ضرورت ہے کہ ملت کا ہر فرد اپنی یہ ذمہ داری سمجھے اور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرے۔
غیر اسلامی سوچ: مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو حالات کا صحیح ادراک تو رکھتا ہے مگر ان باتوں کو اس لئے قابل اعتبار نہیں سمجھتا کہ ان سے انہیں کوئی مطلب نہیں، اور بعض حضرات تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ ان مسلمانوں کے اعمال کی سزا ہے وہ خود بھگتیں، ہمیں اسسے کوئی سروکار نہیں۔ظاہر ہے کہ ایسی سوچ سراسر غیر اسلامی اور اخوت اسلامی کے منافی ہے۔
اس لئے آج اس بات کی بیحد ضرورت ہے کہ لوگوں کے ذہنوں سے اس غیر اسلامی سوچ کو خارج کرکے انہیں اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا جائے۔
3۔ فلسطین ساری امت کا مسئلہ ہے: ملت اسلامیہ میں ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ فلسطین کا معاملہ کوئی قومی یا وطنی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو ساری امت کا مسئلہ ہے، یہ تو قبلہ اول کا مسئلہ ہے، یہ تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزۂ معراج  کا مسئلہ ہے۔
قارئین کرام! فلسطین سے مسلمانوں کا تعلق اتنا ہی ہے کہ وہ مسلم علاقہ ہے، اور اس پر دشمن قابض ہے، اور مذہبی لحاظ سے تو وہ مسلمانوں کا مقدس مقام ہے، جس سے اسلامی تاریخ وابستہ ہے، جس سے خلافت راشدہ کے خلیفہ دوم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت وابستہ ہے، جس سے فاتح اسلام صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی محنت وابستہ ہے۔پتہ یہ چلا کہ فلسطین کے مسئلے کا تعلق محض عرب ممالک یا صرف کسی وطن سے نہیں ہے بلکہ یہ ساری امت کا مسئلہ ہے۔
4۔ امن معاہدے عبث ہیں: مسلم ممالک اور بالخصوص ان عربوں کو جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے ذریعے حل نکالنا چاہتے ہیں، ان کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں، جیسا کہ قرآن مجید نے بھی کہا ہے کہ ’’یہودی تم سے اس وقت تک خوش نہ ہوں گے جب تک تم ان کے ملت کی پیروی نہ کرو۔‘‘(سورۃ البقرہ)ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ:’’تم ان یہودیوں کو سب سے زیادہ اہل ایمان کا دشمن پاؤ گے۔‘‘(سورۃ المائدہ)
قرآن کی ان پیشین گوئی کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہودیوں سے امن مذاکرات و معاہدات کا توقع رکھتا ہے وہ انتہائی حماقت کا شکار ہے۔
اس لئے مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہ ہے کہ امت میں جہاد کی روح پیدا کی جائے، اور حقیقی جہاد کا راستہ جہاد بالنفس سے ہوکر گذرتا ہے، یعنی خواہشات نفس سے جہاد نہ کرنا اس وقت تک دشمنوں سے جہاد میں کامیابی ممکن نہیں۔جو لوگ نفس کی غلامی میں رہ کر آزادی فلسطین کا نعرہ بلند کرتے ہیں، تو جہاد کے کھوکھلے نعرے بلند کرتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پہلے جہاد بالنفس کریں، خواہشات کو پس پشت رکھ کر اسباب و تدابیر کی ساری شکلیں اختیار کریں، پھر وہ دن دور نہیں کہ انشا ء اللہ فلسطین آزاد ہو جائے۔
تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ: ہم مسلمان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ ضرور کرسکتے کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اور انھیں حقیقی صورتِ حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں ، اس کے ساتھ ساتھ ہم غارت گرغیرمسلموں کی تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ کریں ۔ یہ منکر پر ناراضی کے اظہار اور ظالم سے بے تعلقی برتنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے اور شرعاً بہ حیثیت مسلمان ہم اِس بات کے مکلف ہیں کہ اس سلسلے میں جو طریقہ اختیار کرنا ہمارے لئے ممکن ہو ، ہم اس سے دریغ نہ کریں ۔ 
ہم سب کو اجتماعی طور پرہر وقت بارگاہِ الہٰی میںدعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ قبلہ اول بیت المقدس کے باشندوں کی حفاظت فرمائے اور مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے نرغے سے نکلنے کے اسباب پیدا فرمائے ۔