تاریخ اسلام کی ناموراور بے مثال بہادر خاتون
سیدہ خولہ بنت اَزور رضی اللہ عنہا
تاریخِ اسلام ‘ صحابیاتِ طیبات اورخواتین اسلام کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کئے بغیر نا مکمل رہتی ہے کیونکہ ان بہادر خواتین نے اپنی پوری زندگی
اور تمام تر جان و مال دینِ اسلام کے لیے وقف کردیا۔رسول اللہ ﷺ نے اپنی دینی، دعوتی وتبلیغی جدوجہد کا مرکز جس طرح مردوں کو بنایا اُسی طرح عورتوں کو بھی بنایا۔آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں جس طرح خدا پرستی کا مثالی جذبہ مردوں میں پیدا ہوا اُسی طرح خواتین میں بھی انقلابی روح بیدار ہوئی۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تربیت پائی اس طرح صحابیا ت رضی اللہ عنہن بھی رسول اللہ ﷺ کے فیض،صحبت اور ان کی مثالی تربیت کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہوکر دیگر خواتین کے لیے نجومِ ہدایت بن گئیں۔
انھیں عظیم وبہادر خواتین میں ایک عظیم نام سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بنت ازورجو بنو سعدکے نام سے معروف عرب قبیلے کے ایک طاقتور سردار کی بیٹی تھیں۔ ان کا خاندان اسلام قبول کرنے والوں میں سب سے پہلاتھا۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم خاتم النبیین ﷺ کی بہادر صحابیہ تھیں۔ بہت سی خواتین کی طرح سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بنت ازور بھی اسلام کی بہادر جنگجوؤں کی فہرست میں شامل ہیں۔
آپ ،سیدنا ضراررضی اللہ عنہ بن ازور کی ہمشیرہ تھیں، جو مسلمان لشکر کے عظیم سپاہی اور کمانڈر تھے۔سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ اپنے وقت کے ایک بڑے ہنرمند جنگجو تھے اور انہوں نے اپنی ہمشیرہ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو وہ سب کچھ سکھایا جو وہ خود لڑائی کے بارے میں جانتے تھے۔ نیزہ بازی، تلوار زنی وغیرہ۔ اس طرح سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بھی ایک جنگجو بن گئیں۔ وہ اپنے بھائی سیدناضراررضی اللہ عنہ سے پیار کرتی تھیں۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا ور ان کے بھائی ہر جگہ اکٹھے جاتے تھے، خواہ بازار ہو یا میدانِ جنگ۔آپ ایک شاعرہ اور علوم طب کی ماہرہ بھی تھیں اور اپنے ان عظیم فنون میں باکمال تھیں۔
میدانِ جنگ میں سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کی صلاحیتیں اپنے بھائی کے ساتھ جابجا نظر آئیں۔فتوح الشام اور دیگر کتب ِ غزوات میں ہے :
636 عیسوی میں بازنطینی فوج کے خلاف دمشق کے محاصرے میں جنگ ِ یرموک ہوئی۔ اس لڑائی میںسیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے زخمی فوجیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے مسلم افواج کا ساتھ دیا تھا۔ اس جنگ کے سربراہ سیف من سیوف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدناضرار رضی اللہ عنہ مسلم فوج کے ایک دستے کی قیادت کر رہے تھے۔ جنگ کے دوران سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ کھو دیا، گھوڑے سے گرے اور بازنطینی فوج نے انہیں قیدی بنا لیا۔ اس موقع پرسیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے ایک جنگجو کی زرہ پہنی، اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھانپا، اپنی کمر کو سبز شال میں لپیٹا اور اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر سرپٹ دوڑتی ہوئی رومن صفوں میں سے گزر گئیں۔ جس نے بھی انہیں روکنے کی کوشش کی اس کے خلاف اپنی تلوار کو مہارت سے استعمال کیا اور بے شمار بازنطینی فوجیوں کو مار ڈالا۔ وہاں موجود مسلم فوج کے ایک فوجی شورابیل ابنِ حسنہ نے کہا ’’یہ جنگجو خالد بن ولید کی طرح لڑتاہے لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ خالد نہیں ہے۔‘‘
رافع بن عمیرہ الطائی اس واقعہ کو دیکھنے والے جنگجوؤں میں سے ایک تھا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سپاہی دشمن کی صفوں کو منتشر کر کے ان کے درمیان غائب ہو جاتیں، تھوڑی دیر بعد ان کے اپنے نیزے سے خون ٹپکتا ہواظاہر ہوتا۔ وہ پھر سے مڑتیں اور بغیر کسی خوف کے اس عمل کو کئی بار دہراتیں۔ پوری مسلم فوج ان کے لیے پریشان تھی اور ان کی حفاظت کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی۔ رافع اور وہاں موجود دوسرے جنگجوؤں نے سوچا کہ وہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں لیکن اچانک سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کئی سپاہیوں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ رافع نے سیدنا خالدبن ولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’وہ سپاہی کون ہے؟ خدا کی قسم! اسے اپنی حفاظت کا کوئی خیال نہیں ہے۔‘‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’وہ اس شخص کو نہیں جانتے۔‘‘ جب بہت سے رومی سپاہی ان کا پیچھا کرتے ہوئے آ رہے تھے تو وہ مڑیں اور ایک ہی وار میں بہت سے رومیوں کا سر قلم کر دیا۔ رومی بالآخر جنگ ہار گئے اور فرار ہو گئے۔ بہت سے لوگ میدانِ جنگ میں ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کی بہادری کی تعریف کی اور انہیں پردہ ہٹانے کو کہالیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں سے جانے کی کوشش کی لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بار بار اصرار کرنے پرانہوں نے جواب دیا:
’’میں خولہ بنت ازور ہوں۔ ضرار بن ازور کی بہن۔ میں فوج میں خواتین کے ساتھ تھی، جب مجھے معلوم ہوا کہ دشمن نے میرے بھائی کو پکڑ لیا ہے تو مجھے وہ کرنا پڑا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔‘‘
تب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو فرار ہونے والی رومی فوج کا پیچھا کرنے کا حکم دیا اورسیدہ خولہ رضی اللہ عنہا اس دستے کی قیادت کر رہی تھیں اور وہ فرار ہونے والے رومی فوجیوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے جو قیدیوں کو اپنے ہیڈکوارٹر لے جارہے تھے۔ ایک اور لڑائی ہوئی، رومی فوجی مارے گئے اور سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کی جان بچا لی۔
اجنادین کی جنگ میں سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کا نیزہ ٹوٹ گیا۔ ان کی سواری کو مار دیا گیا او رانہوں نے خود کو قیدی پایا۔ لیکن سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ رومیوں نے عورتوں کے کیمپ پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی ایک کو پکڑ لیا۔ رومیوں کے قائد نے قیدیوں کو اپنے کمانڈروں کے حوالے کر دیا اور سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو اپنے خیمے میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا غصے میں تھیں اور فیصلہ کیا کہ ذلت میں جینے سے زیادہ عزت کی موت مرنا بہتر ہے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا اس کے باوجودسیدہ خولہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے درمیان کھڑی ہوئیں اور انہیں اپنی آزادی اور عزت کے لیے لڑنے یا مرنے کی دعوت دی۔ خواتین ان کے منصوبے پر پرُجوش تھیں۔ انہوں نے خیموں کے کھمبے اور کھونٹے لیے اور اپنے اردگرد تنگ دائرہ بنا کر رومی محافظوں پر حملہ کیا۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے حملے کی قیادت کی۔ الواقدی کے مطابق انہوں نے 30 رومن فوجیوں کو مار ڈالا۔ انہیں تاریخ کی عظیم ترین بہادر خاتون جنگجو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
تحریر:کنیز فاطمہ