• فقہی مسائل

نمازِ فجر کی فضیلت واہمیت

نمازِ فجر کی فضیلت واہمیت
تمام عبادات میں نماز کو جواہمیت وفضیلت حاصل ہے وہ کسی بھی صاحب ِ ایمان اہل ِ نظر سے پوشیدہ نہیں ہے ۔



گلشنِ حیات میں بندگی کے جن پھولوں سے بہار آتی ہے اُن میں نماز کی حیثیت گل سرسبد کی سی ہے ۔ حضرت امام محمد غزالی رحمہ اللہ سے کسی نے عبادت کا مفہوم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : میرے پاس بھی عبادت کا مفہوم وہی ہے جو سرورِ کائنات ﷺ نے اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو ارشاد فرمایا تھا کہ انسان اُٹھتے، بیٹھتے ، چلتے ، پھرتے ، سوتے ، جاگتے حتی کہ ہر حال وقال میں اپنے مالک ومولا کی کرم نوازی اور اس کے قہر وجلال کو یاد رکھے ۔
عبادتوں میں نماز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ،اس عمل کو انسان رات ودن میں کئی مرتبہ انجام دیتا ہے جب صبح اُٹھتا ہے تو خدا کی یاد میں غرق ہوجاتاہے ، دوپہر کے وقت جب انسان مادی زندگی میں غرق رہتا ہے اور اچانک مؤذن کی آواز سنتا ہے تو اپنے کاموں کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے پروردگار کی بارگاہ کا رُخ کرتا ہے یہاں تک کہ دن کے اختتام اور رات کی شروع میں بستر استراحت پر جانے سے پہلے خدا سے راز ونیاز کرتا ہے اور اپنے دِل کو اس کے نور کا مرکز قرار دیتا ہے ۔اِس لیے نماز‘ ہر عاقل بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ، روایات میں فرمایا گیا کہ جب لڑکا، لڑکی کی عمر سات سال ہوجائے تو نماز پڑھنا سکھایا جائے اور جب دس سال کے ہو جائیں تو سختی سے نماز پڑھانی چاہیے ۔عرفاء فرماتے ہیں کہ دس سال کی عمر سے سختی کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ ترشاخ کو جدھر پھیریں پھر جاتی ہے اور جب خشک ہوجائے تو یہ حالت نہیں رہتی ، اس لیے جب چھوٹی عمر میں مسجد میں آنے جانے اور نمازِ پنجگانہ کی عادت بن جائے تو آگے چل کر یہ عادت برقرار رہتی ہے ۔ 
اسلام میں جتنی نماز کی تاکید ہے کسی عبادت کی نہیں ، اس کے فضائل بہت ہیں اور اس کے چھوڑنے والوں کے لیے بڑے بڑے دردناک عذاب مقرر ہیں ، رب کریم کی وحدانیت کے اقرار کے بعد دوسرا سب سے بڑا عمل جس سے انسان کا قلب وذہن بدلتا ہے اور اس کے سیرت وکردار میں ایک عظیم انقلاب آتا ہے وہ ’’ نماز‘‘ ہے ۔
اس کائنات کی سب سے بڑی صداقت یہ ہے کہ اس میں صرف نماز ہی وہ عبادت ہے جو مخلوق کو روحاً اور عاجز ودرماندہ ثابت کراتی ہے ، اس کے دِل ودماغ کو صحیح سوچ سے آراستہ اور غلط خیالات کے کھوٹ کو نکال کر پاکیزہ بناتی ہے اور اس کو اپنے خالق سے کم از کم چوبیس گھنٹے میں پانچ بار تو ضرور ملاتی ہے ۔اگر کسی انسان کو مذہب ِ اسلام کے متبعین کے تہذیبی تصورات کا پتہ لگانا ہو تو وہ ہمارا طریقۂ عبادت دیکھ لے جو تمام رازوں کو افشاں کرکے رکھ دے ، اس لیے ہم برجستہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی تمام عبادتوں میں صرف نماز ہی کو وہ حق حاصل ہے جو اپنے قارئین کے خیالات وتصورات کی سب سے جامع تفسیر بیان کرتی ہے ۔
نماز مسلمانوں کی دینی پہچان اور امتیازی نشان ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں اس کی ادائیگی پر بہت زیادہ زور اور ترک پر وعید موجود ہے ، ارشادِ نبوی ہے : ’’ مومن اور کافر کے درمیان امتیاز کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جس نے اِسے چھوڑا ، اس نے کفر کیا۔‘‘
اس وعید سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں نماز کی اہمیت کیا ہے ؟ جو چیز جس قدر اہم اور ضروری ہوتی ہے اس کی بجا آوری پر اجر وثواب بھی اسی قدر زیادہ ملتا ہے چناں چہ نماز کا ثواب بھی اس قدر ہے کہ انسان کا تصور نہیں کرسکتا لیکن پنج وقتہ نمازوں میں نمازِ فجر کی اہمیت وفضیلت سب سے نمایا ں ہے اور اس کی ادائیگی پر اجر وثواب بھی دیگر چار نمازوں سے زیادہ ہے ۔عارفین لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ فجر کے وقت دنیا نیند کی آغوش میں محو ِ استراحت ہوتی اور لوگوں پر غفلت اور سستی کی چادر تنی ہوئی ہوتی ہے ایسے میں نرم وگرم آرام دہ بستر کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ومحبت میں بارگاہِ الہٰی میں سجدہ ریز ہونا بڑا پُرمشقت اور نفس کو زیر کرنے جیسا مشکل کام ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی سنت ِ کریمہ ہے کہ بندے کو جس نیکی کے کرنے میں مشقت زیادہ ہو اور نفس وشیطان سے لڑائی لڑنی پڑے ، اللہ اس پر زیادہ اجر وثواب عطا کرتا ہے چاہے وہ نیکی کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو،قرآن وحدیث سے بھی نماز فجر ، فجر کی قرأت وتلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اُجاگر ہوتی ہے ، جس سے فجر کے وقت اور نمازِ فجر کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ۔سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ترجمہ: ’’ اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کرلیں ) بیش نمازِ فجر کے قرآن میں ( فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے ۔)(بنی اسرائیل : 78)
احادیث ترغیب اور سلف صالحین کے اقوال کا خلاصہ پیش کروں تو نمازِ فجر کی پابندی کرنے والے کے لیے دس خوشخبریاں ذکر کی گئی ہیں ۔ ۱۔ نماز فجر کی پابندی کرنے والے کو قیامت کے دن کامل نور حاصل ہوگا۔ ۲۔ فجر کی دورکعتیں دنیا وما فیھا سے بہترین ہیں ۔ ۳۔ نمازِ فجر پڑھنے والے کو  نیکیوں کے حصول میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ ۴۔ نماز کے حق میں فرشتوں کی گواہی کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ ۵۔ جنت کے حصول کی سرفرازی اور جہنم سے خلاصی ونجات حاصل ہوتی ہے ۔۶۔ نمازِ فجر کی پابندی کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا حصول ۔۷۔نمازِ فجر پڑھنے والے کو پوری رات میں قیام کا اجروثواب ۔۸۔ فرشتوں کی دعا کا حصول ۔۹۔ حج وعمرہ کے اجروثواب ۔۱۰۔ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان اور اس کی ضمانت کا حصول نمازِ فجر کی ادائیگی والے کے لیے بیان ہوئے ۔
سنن ابن ماجہ میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو صبح کی نماز ( پڑھ کر کاروبار کے لیے بازار )کو گیا ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح کی نماز پڑھے بغیر بازار گیا وہ ابلیس کے جھنڈے کے ساتھ گیا ۔‘‘ 
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اُس کی گدّی ( یعنی گردن کے پچھلے حصے ) میں تین گرہیں یعنی گانٹھیں لگادیتا ہے ، ہر گِرہ پر یہ بات دِل میں بٹھاتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے سو جا، پس اگر وہ جاگ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور نماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے پھر وہ خوش خوش اور تروتازہ ہوکر صبح کرتا ہے ، ورنہ غمگین دل اور سستی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔ ‘‘
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے : نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نمازی بھاری نہیں اور اگر انھیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے ( اگرچل نہ سکتے ) تو گھٹنوں کے بل گھیسٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہوگیا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے ، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کے چنگاریاں لے کر اِن سب کے گھروں کو جلادوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے ۔‘‘
شعب الایمان میں ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ رزق تقسیم کرنے والا فرشتہ ہرصبح فجر کے وقت بندوں کو رزق لے کر زمین پر اترتا ہے لہٰذا جو دروازہ فجر کے وقت کھلاہوتا ہے فرشتہ اس کا رزق دروازے پر رکھ کر چلا جاتا ہے اور جو دروازہ فجر کے وقت بند ہوتا ہے ، فرشتہ اس کا رزق واپس لے کر چلا جاتا ہے ۔‘‘ 
نمازِ فجر میں ادائیگی میں ہماری سستی وغفلت اور کاہلی وکوتاہی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ۔ کوئی بھی موسم ہو بقیہ چار نمازوں کے مقابلے میں فجر میں نماز ی بہت کم تعداد ہوتے ہیں ، یہی حال گھروں میں خواتین کی نماز فجر کا ہے ، فجر میں وہ اہتمام نہیں ہوتا جو بقیہ چار نمازوں کی ادائیگی میں ہوتا ہے ۔ہمارے نوجوان جو رات بھر سوشل میڈیا کی غلاظتوں میں غوطہ زن رہتے ہیں اور عین فجر کے وقت سو جاتے ہیں انھیں ان وعیدوں اور تنبیہات سے عبرت وسبق اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے ۔اور یہ بات ہر مسلمان کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ نماز ِ فجر میں ناغہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کسی صورت قبول نہیں ۔ 

تحریر:مفتی محمد زمان سعیدی رضوی