• صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

 سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ

شوق شہادت سے سرشار، عشرہ مبشرہ صحابی
 سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ
 


حضورنبی کریم خاتم النبیین ﷺ کے بعد تمام اہل عالم میں سب سے لائق وفائق ، افضل وارفع ، محمود ومنصور اور محفوظ ومأمون اگر کوئی طبقہ ہے تو آپ ﷺ کی آل پاک ، اہل بیت اطہارعلیہم السلام اور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم ہی کا ہے ۔ یہ اَمر بالکل ثابت ومسلّم ہے کہ جس طرح انبیائے کرام اور رسل عظام علیہم السلام میں حضور سرورِ عالم ﷺ اعلیٰ وارفع مقام کے حامل ہیں اِسی طرح تمام انبیائے کرام اور رسل عظام علیہم السلام کے اہل اور اصحاب میں آپ ﷺ کے اہل بیت علیہم السلام اور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کے سب سے اونچے مقام پر فائز ہیں۔جن دس نفوسِ قدسیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بارگاہِ سید الاولین والآخرین ﷺ سے جنت کی بشارت عطا ہوئی انھیں اصطلاح میں ’’ عشرہ مبشرہ اصحاب رضی اللہ عنہم ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ان میں ایک خوش نصیب اور بزرگ ہستی سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔

نام و نسب: آپ کا اسم گرامی ’’طلحہ‘‘(رضی اللہ عنہ)اورکنیت’’ ابو محمد‘‘ہے ۔آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ سے ’’ طلحۃ الخیر، طلحۃ الفیاض ، طلحۃ الجود اور زندہ شہید ‘‘جیسے القاب ملے ۔آپ کے والد کا نام ’’ عبیداللہ ‘‘ جو آپ کے قبول اسلام سے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسے تھے اور والدہ کانام ’’صعبہ‘‘ تھا جنھوں نے طویل عمر پائی اور مشرف باسلام بھی ہوئیں ۔
آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے:’’ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ابن غالب القرشی التیمی۔‘‘ مرہ بن کعب ۔حضور نبی کریم ﷺ کے اجداد میں سے ہیں، اس طرح سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب چھٹی پشت میں آپ ﷺ سے جاملتا ہے۔ (الاصابہ، طبقات الکبری)
ابتدائی حالات زندگی: آپ قریش کے قبیلہ تیم سے تعلق رکھتے تھے۔امیر المؤمنین سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قبیلہ تھا اور ہم قبیلہ ہونے کی وجہ سے اِن دونوں ہستیوں کے باہم گہرے روابط تھے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اعلان نبوت سے تقریباً پندرہ برس پہلے پیدا ہوئے اور یہ خبر اس لیے درست ہے کہ جس وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ساٹھ برس تھی۔سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے پڑھے لکھے افراد میں ہوتاتھا۔ بچپن سے ہی آپ نے تجارت کے پیشہ کو اختیار کیا اور تجارت کی غرض سے اکثر دور دراز ممالک جن میں شام، یمن اور عراق کے شہر شامل  تھے،سفر پر جایا کرتے تھے۔آپ جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے تب تک تجارت آپ کا پیشہ رہا اور جب ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آگئے تو پھر زراعت کا پیشہ اختیار کرلیا۔کچھ ہی عرصہ میں آپ کی کاشتکاری وسیع پیمانے پر پھیل گئی۔
قبولِ اسلام: آپ کے اسلام لانے کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ جن دنوں نبی کریم ﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا،اُن ایام میں آپ بصرہ میں تجارت کی غرض سے موجود تھے کہ وہاں ایک عیسائی راہب سے آپ کی ملاقات ہوئی، راہب نے آپ سے سوال کیاکہ کیا مکہ میں احمد( ﷺ ) نبی آخرالزمان کا ظہور ہوچکا ہے؟ آپ نے کہا کہ مجھے اس کے بارے میں خبر نہیں ہے کہ وہ کون ہیں؟ تو راہب نے کہا کہ ’’احمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب‘‘ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور ان کے ظہور کا یہی زمانہ ہے۔
 ان کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوں گے اور کھجوروں والے شہر کی طرف ہجرت کریں گے۔سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو اشتیاق پیدا ہوا کہ مکہ مقدسہ پہنچ کر ان سے ملاقات کروں اور جب واپس مکہ مکرمہ آئے تو آپ کوخبر ملی کہ محمد بن عبداللہ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا ہے۔آپ نے راستے میں نبی کریم ﷺ اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو اکٹھے دیکھا تو اطمینان ہوا،کہنے لگے یہ دو ہستیاں کبھی غلط نہیں ہوسکتیں۔ آپ واپس مکہ مقدسہ پہنچتے ہی سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور انھیں ساتھ لے کرنبی کریم ﷺ کی بارگاہِ عالیہ میں حاضرِ خدمت ہوئے اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئے۔آپ کا شمار السابقون الاوّلون میں ہوتا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بڑی شجاعت و استقامت سے کفار کے مظالم برادشت کئے اورہجرت بھی کی ۔
غزوات میں شمولیت:غزوہ بدر کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو مشرکین کے قافلہ کی خبر لانے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔قافلہ دوسرے راستہ سے ہوتا ہوا مقامِ بدر پہنچ گیا اور وہیں جنگ بھی ہوئی۔ جب یہ حضرات رضی اللہ عنہما خبر لے کر واپس آئے تو اس دوران جنگ بدر ختم ہوچکی تھی۔اس طرح سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شرکت نہیں کر سکے مگر آپ نے اِس کی تلافی غزوۂ احد میں اس طرح کی کہ بہادری اور جانثاری کا ریکارڈ قائم کر دیا۔
غزوۂ احد میں نبی کریم ﷺ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مردانہ وار اپنی جانیں نثار کیں۔ گھمسان کی جنگ چھڑی تو درجنوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک ایک کرکے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔جنگ کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تنہا نبی کریم ﷺ کا دفاع کر رہے تھے کہ اچانک کفار کا ایک بہت بڑا ریلا نبی کریم ﷺ پر حملے کے لیے دوڑا۔ آپ ﷺ کے سامنے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوکر کھڑے ہوگئے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ پروانہ وار رسول اللہ ﷺ کے کبھی آگے کبھی پیچھے کبھی دائیں کبھی بائیں دشمن کے وارر وکتے رہے۔ جس طرف سے بھی دشمن آگے بڑھتا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اُس کے آگے ہوتے،آپ رضی اللہ عنہ چاروں اطراف گردش کرتے رہے اور تیروں تلواروں کے وار اپنے جسم پر روکتے رہے۔ایک بدبخت کافر نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار کا وار کیا جسے سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ پر روکاجس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اس حالت میں بھی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بڑی بہادری اور حیران کن جانبازی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے۔مسند ابی یعلی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے دن فرمایا: طلحہ پر جنت واجب ہوگئی۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی احد کی جنگ کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ احد کا دن سارے کا سارا طلحہ بن عبید اللہ کے حصہ میں آیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا جسم زخموں سے چور چور تھا اور 70 سے زائد تلوار کے زخم جسم پر لگے تھے جس کے باعث وہ بیہوش پڑے تھے۔ جب میں نے ان کی مرہم پٹی کی اور چہرے پر پانی چھڑکا تو انہیں ہوش آیا اور سب سے پہلا سوال عاشق صادق نے یہ کیا کہ بتائیں رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟ جس وقت آپ ﷺ کی سلامتی کی خبر ملی تو اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔(ضیاء النبی) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ کا ہاتھ دیکھا جو حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے جنگ احد میں کام آیا،وہ بعد میں بالکل بے کار ہو گیا تھا ۔
جانثارانِ   بدر  و  احد   پر  درود
حق گزارانِ   بیعت پہ لاکھوں سلام
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد کے بعدتمام غزوات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نمایاں طور پر شریک رہے۔رسول اللہ ﷺ نے دس ہجری میں جب حج ادا فرمایا تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے۔
فضائل ومناقب:آپ کوبیعتِ رضوان کا شرف حاصل ہے۔رسول اللہ ﷺ نے انھیں جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی۔آپ کی فضیلت و عظمت کا اس طرح بھی پتا چلتا ہے کہ جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کے لیے جن چھ ہستیوں کے نام پیش کیے ان میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے مگر آپ نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی۔ آپ سے اڑتیس کے قریب احادیث مروی ہیں۔
 سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے راہِ اسلام میں کبھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ہمیشہ غزوات کے مصارف کے لئے اپنا مال دل کھول کر پیش فرماتے۔ایک مرتبہ ایثار کی نذر مانی اور اسے خوبصورتی سے نبھایا۔ سورہ ٔاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو بطورِ استحسان و تعریف بیان فرمایا:’’کچھ ایسے آدمی ہیں جنھوں نے اللہ سے جو عہد کیا اس کو سچ کر دکھایا، چنانچہ بعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے اپنی نذر پوری کی۔‘‘ (الاحزاب:۲۳)آپ اپنے قبیلہ کے تمام محتاج و تنگدست خاندانوں کی کفالت کرتے تھے۔
شہادت:سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو جنگِ جمل میں مروان بن الحکم الاموی نے گھٹنے پراس وقت تیر ماراجب آپ جنگ کا ارادہ ترک کرکے کسی صف میں جابیٹھے ۔اس تیر کے زخم کی وجہ سے ہی آپ شہید ہو گئے ۔شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک تریسٹھ برس تھی۔مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ آپ کی شہادت کے موقع پر مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اب کوئی خیر نہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان جیسی استقامت اور ایثار عطا فرمائے۔آمین
تحریر:ڈاکٹر حافظ محسن ضیاء قاضی