خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نواسے ،شجاعت وبہادری اور دانائی کا پیکر
سید نا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما
تحریر:علامہ بابر حسین بابر
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ‘‘وہ عظیم المرتبت‘ جلیل القدر ہستیاں ہیںجن کی زندگیاں شمع رسالت ﷺ سے ضیاء بار ہوئیں ‘ اِن کی پاکیزہ سیرت کا ہر پہلواُسوۂ رسول ﷺ کی کرنوں سے منور ہے ۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ رسول کریم خاتم النبیین ﷺ کا تربیت یافتہ جو بھی صحابی رضی اللہ عنہ جہاں جہاں بھی قدم رنجہ ہوا‘ اُن کے دَم قدم سے ظلمت‘ ضیاء میں بدل گئی اور خزاں رسیدہ گلستانوں میں پھر سے بہار آنے لگی ۔ان ہستیوں کا ادب واحترام ملحوظ رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
اِن نفوس قدسیہ میں ایک خوب صورت شخصیت کے مالک ’ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما‘جنھیں کئی جلیل القدر نسبتیں حاصل ہیں ۔ ان کے والد ِ گرامی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی پیاری پھوپھی جان سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے اور عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے تھے اور والدہ سیدہ اسماء بنت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما ہیں ۔ آپ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے اورسیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں ۔آپ کی والدہ محترمہ ذات النطاقین سیدہ اسماء رضی اللہ عنہاجب مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائیں تو مقامِ قبا پر ان کی ولادت ہوئی ۔ آپ فرماتی ہیں :’’میں انھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ آپ ﷺ نے انھیں اپنی گودمیں رکھا ،پھر کھجور منگوا کر چبائی، پھر اپنا مبارک لعابِ دہن ان کے منہ میں ڈالا تو سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کالعابِ دہن تھا ۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کی۔ (البدایہ والنہایہ )
ابن کثیر نے آپ کی ولادت کے حوالے سے یہ روایت بھی لکھی ہے کہ آپ کی ولادت پر مسلمان بڑے خوش ہوئے کیوں کہ یہودیوں کاخیال تھا کہ انھو ں نے مہاجرین پر جادو کر دیا ہے لہٰذا مدینہ طیبہ میں ان کی اولاد نہیں ہو گی تو جب سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تو مسلمانوں نے تکبیر کہی ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کو لے کر مدینہ منورہ میں نکلے تا کہ یہودیوں کے گمان کے بر عکس ان کی ولادت مشہور ہو سکے ۔(البدایہ و النہایہ)
علامہ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ نبی کریم خاتم المرسلین ﷺ نے آپ کا نام’ عبد اللہ‘ رکھا ۔آپ کی عمر تقریباً آٹھ برس کی تھی کہ ایک دن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ انھیں ہمراہ لے کر حضور سرورِ عالم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ میرے بچے کو بیعت سے مشرف فرمائیے، آپ ﷺ کم سن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کرمسکرائے اور انھیں بیعت سے مشرف فرمایا ۔آپ وقتاً فوقتاً بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے اور فیضان نبوت سے بہرہ یاب ہوتے ‘ اِن کا حافظہ بہت قوی تھا اِس لیے کمسنی میں حضور سرورِ عالم ﷺ کے فرامین مقدسہ کو یاد رکھتے تھے ۔
امام بخاری اوردیگر محدثین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’احزاب والے دن مجھے اور عمر بن ابی سلمہ کو عورتوںکے پاس ٹھہرایاگیا تو میں نے (اپنے والد )سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کوگھوڑے پر دیکھا جنھوں نے بنو قریظہ کی طرف دو یا تین چکرلگائے تھے ۔ جب میں واپس پلٹا تو میں نے اپنے والد سے کہا : اے ابا جان!میں نے آپ کو آتے جاتے دیکھا۔ انھوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ،کیا تم نے مجھے دیکھا ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔تو آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :’’ کون ہے جو بنی قریظہ کی طرف جائے اور ان کی طرف سے مجھے خبر لا کر دے ؟تو میں چلا گیا ۔ جب میں واپس پلٹا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے (دعا میں )اپنے والدین کو جمع کیا اور فرمایا :’’ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ۔‘‘
شارح مسلم علامہ نووی علیہ الرحمۃ کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی عمر اس وقت چا ر سال سے کم تھی کیونکہ آپ کی پیدا ئش ہجرت کے وقت ہوئی اور غزوۂِ احزاب چار ہجری میں پیش آیا ۔نیز اس روایت سے آپ کی ذہانت اور یادداشت کے حوالے سے بھی فضیلت ثابت ہو تی ہے کہ اس عمر میں پیش آنے والا واقعہ آپ کو تفصیل سے یاد تھا ۔
آپ بچپن ہی سے بلند ہمت تھے ‘ بڑے بڑے اُمور کو سرانجام دینے میں دلچسپی لیتے تھے ،آپ حق کے علم دار اور سچائی کا پرچار کرنے والے تھے ۔تفسیر ، فتاوی اور ادب میں اِن کے اقوال زریں بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔اکابرین امت کی آراء میں سے کچھ قارئین کرام کی نذر ہیں :
(۱) علامہ ابو نعیم نے ابنِ ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے ‘آپ فرماتے ہیں : ’’میں نے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا ذکرکیا تو انھوں نے فرمایا : ’’وہ قرآن کو بہت اچھا پڑھنے والے اوراسلام میں پاک دامن تھے۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ) (۲)حضرت مالک بن دینا ررحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’ میں نے سیدناعبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے زیادہ خوبصورت نماز پڑھتے ہو ئے کسی کو نہیں دیکھا ۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء )
(۳) سیدناعروہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا اور آپ کے بعد سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا ۔(سیراعلام النبلاء)
بہادری اور شہسواری کا گر آپ کو خاندانی ورثہ میں ملا، نوعمری میں بڑے بڑے معرکوں میں حصہ لیا۔آپ نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد ِ خلافت میں جرأت وشجاعت اورولولہ انگیز جنگی داستانیں رقم فرمائیں۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں :’’آ پ نے جنگ ِ یرموک میں اپنے والد گرامی کے ساتھ شرکت فرمائی ۔ (یہ جنگ امیر المؤمنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت 13 ہجری میں لڑی گئی ‘ اس وقت آپ کی عمر تقریبا ًتیرہ سال تھی )فتح افریقہ میں بھی آپ نے شرکت کی اورامیر المؤمنین سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو فتح کی خوشخبری آپ نے ہی سنائی ۔(الاصابہ )
علامہ ابنِ کثیر نے اس واقعہ کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے ‘ ان کے مطابق بربر کے بادشاہ جرجیر کو آپ نے ہی قتل کیا ۔ جب امیر المؤمنین سیدنا عثمان ذالنورین رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو جن اصحاب رضی اللہ عنہم نے آپ کا دفاع کیا ان میں بھی سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نام شامل ہے۔(البدایہ والنہایہ )
بالجملہ آپ نے اپنے عہد کے بہت سے معرکوں ، جنگوں میں خوب اپنا کردار ادا کیا ۔ آپ نے بھی شہید ِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام کی طرح یزید کی بیعت سے انکار کر دیا، آپ حرمِ مکہ میں چلے گئے اور خانہ کعبہ میں پناہ لے لی ۔ اس لیے آپ ’’عائذ البیت‘‘(بیت اللہ میں پناہ لینے والا)کے لقب سے بھی مشہور ہوئے ۔(سیر اعلام النبلاء )
علامہ ابن عبد البر کے مطابق 65 ہجری میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ۔ اہلِ حجاز ، یمن ، عراق اور خراسان آپ کی اطاعت پر متفق ہو گئے ۔ (الاستیعاب )
آپ کی خلافت تمام بلادِاسلامیہ میں قائم نہ ہو سکی ‘ عبد الملک کے ساتھ آپ کی کشمکش جاری رہی ۔ یہاں تک کہ اس نے حجاج بن یوسف کو آپ کے خلاف مہم پر روانہ کیا ۔ حجاج نے مکہ شریف کا محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ طول اختیار کر گیا ۔ بالآخرآپ کے ساتھیوں نے بھی آپ کو چھوڑنا شروع کردیا لیکن آپ ثابت قدم رہے۔ جب آپ کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ رہ گئے تو آپ اپنی والدہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے مشور ہ طلب کیا۔ آپ کی والدہ نے فرمایا :’’ اے بیٹے! اگر تو سمجھتا ہے کہ تو حق پر ہے اور حق کی طرف بلارہا ہے تو اس پر صبر کر و تمہارے ساتھی بھی اسی پر شہید ہو ئے اور اگر تو نے دنیا کا ارادہ کیا ہے تویہ بہت برا ہے ۔اگر تو حق پر ہے تو دین کے معاملے میں کمزوری کیسی ؟ اورتم نے کب تک دنیا میں رہنا ہے ؟شہادت ہی بہترہے ۔‘‘
آپ اپنی والدہ ماجدہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہوئے اور ان کا سر چوم لیا اور کہا : ’’ قسم بخدا!میری بھی یہی رائے ہے۔‘‘ پھر فرمایا :واللہ! نہ تومیں دنیا کی طرف مائل ہوا اورنہ ہی میں نے اس میں زندگی کو پسند کیا ۔ مجھے خروج پر صرف اللہ کی خاطر غضب نے ابھاراہے کہ اس کی حرمت کو حلال کر لیا گیا ۔ میں نے آپ کی رائے جاننا چاہی ۔ آپ کی بصیرت کے ساتھ میری بصیرت میں اضافہ ہو گیا ۔
حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے ایک سپاہی کا تیر آپ کے چہرے پر لگا جس سے آپ زخمی ہوکر زمین پر تشریف لے آئے اور جام شہادت نوش کرلیا۔ شہادت کے بعد آپ کے جسد ِاطہرکو سولی پرلٹکا دیاگیا ۔ جب وہاں سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا تو فرمانے لگے :’’اے ابو خبیب ! (سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی کنیت ) آپ پر اللہ کی رحمت ہو۔قسم بخدا! آپ رات کو خوب قیام کرنے والے اور بہت زیادہ روزے رکھنے والے تھے ‘‘پھر فرمایا : ’’کیا ابھی تک اس شہسوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا ؟‘‘نیز علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ سپاہیوں نے جب آپ کو شہید کیا تو اس وقت نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا تھا :’’اللہ کی قسم ! وہ لوگ جنھوں نے آپ کی پیدائش کے وقت تکبیر کہی تھی وہ ان سے بہتر تھے جنھوں نے آپ کی شہادت پرتکبیر کہی ۔ ‘‘
شہادت کے تین یا چار دن بعد آپ کا جسد اقدس آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کیا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے شہزادے کا غسل ،کفن اور جنازہ کا اہتمام کرایا اور آپ مکہ معظمہ میں جنت المعلی میں آرام فرماہوئے ۔رضی اللہ عنہ وارضاہ عنا