سلسلہ عالیہ چشتیہ کے پیشوا ، قدوۃ الدین
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ
سلسلہ چشت اہل بہشت کے بانی حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ حسنی سادات میں سے تھے ،آپ ریاضت ومجاہدہ میں بے مثال اور خوارق وکرامات میں لاثانی تھے ۔ آپ نے سلطنت ترک کے فقیری کی راہ اختیار کی تھی ۔ سلسلہ نسب چند واسطوں سے شہزادہ رسول ﷺ خلیفۃ المسلمین سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جاملتا ہے۔آپ کے والد محترم سلطان فرغانہ کی ایک ہمشیرہ جو ولیہ اور عفیفہ خاتون تھیں، حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدت رکھتی تھیں بسا اوقات آپ اِن کی قیام گاہ پر تشریف لاتے۔ ایک دن نے آپ نے انہیں فرمایا:’’ تمہارے بھائی کو اللہ تعالیٰ عنقریب ایک فرزند عظیم الشان جو صاحب ولایت ہوگا عطا فرمائے گا اور اس کی تم پرورش کرنا، کوئی چیزمشکوک و مشتبہ اس کے شکم میں نہ جانے دینا۔‘‘ آ پ کی پھوپھی محترمہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی بھابھی صاحبہ امید سے ہیں تو ان کی نگہداشت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ چھوڑی ،یہاں تک کے خود چرخہ کات کر اپنی حلال کمائی سے ضروریات پوری فرماتیں۔
آپ 6 رمضان المبارک 260ھ میں چشت شریف میں پیدا ہوئے ،یہ دور خلیفہ معتصم باللہ کا تھا۔جیسا کہ حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ولادت باسعادت کی پیش گوئی فرمائی تھی، آپ شکم مادر محترم سے ہی صاحب کرامت تھے۔آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں، رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا ۔آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے۔
آپ اپنی پھوپھی محترمہ کے زیرتربیت رہے، جب آپ کی عمر سات سال ہوئی تو حضرت بانی چشت کی مجلس میں حاضر ہوئے ،ان سے ظاہری و باطنی تعلیم لی اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ سے مستفیض ہوتے رہے۔ سولہ سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت فرمالیا۔حضرت نے آپ کو خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا، بڑے مجاہدے کیے چنانچہ سات روز بعد کھانا کھاتے، وضو کرتے اور تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے۔ چالیس دنوں بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے۔ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے۔ایک دن خواجہ ابو احمد چشتی اپنے والد گرامی کے ہمراہ پہاڑوں پر شکار کھیلنے چلے گئے، اتفاقاً والد اور ان کے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ رجال الغیب سے چالیس افراد ایک چٹان پر کھڑے تھے اور خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی کے درمیان کھڑے تھے، حضرت خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اُتر آئے، قدم بوسی کی اسلحہ اور گھوڑا تن سے علیحدہ کیے اور خواجہ کی رکاب پکڑ کر پیدل چلنے لگے، آپ کے والد محترم نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا مگر نوجوان ابواحمد کا کہیں پتہ نہ چلا، چند دنوں بعد خبر ملی کہ ابو احمد فلاں موضع میں حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہ کی خدمت میں موجود ہے۔ بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں مگر ان کی ساری پند و نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی علیہ الرحمہ کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا، آٹھ سال تک محنت شاقہ سے گزرے خرقہ خلافت حاصل کیا۔
آپ محفل سماع کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے ۔ ماہِ جمادی الثانی 355ھ کوآپ نے واصل بحق فرمایا۔ مزار مبارک چشت شریف صوبہ ہرات افغانستان میں واقع ہے۔آپ کے عظیم المرتبت صاحبزادے حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ اعظم وجانشین ہوئے۔
تحریر : مفتی محمد زمان سعیدی رضوی