• اولیائے کرام علیہم الرحمۃ

حضرت خواجہ سیف الدین مجددی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ 

امام ربانی حضرت مجد د الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ،سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم شیخ طریقت
حضرت خواجہ سیف الدین مجددی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ 
تحریر:مفتی محمد رمضان جامی 

  ’’جب صالحین کا ذکر خیر ہو رحمت الہٰی کا نزول ہوتا ہے‘‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ اولیا ئے کرام رحمۃ اللہ علیہم کا ذکر خیر کثرت سے موجود ہے۔اولیا ئِ عظام علیہم الرحمۃ کی ذواتِ مقد سہ نے ہر دور میں اسلام کا علَم محبت بلند کئے رکھا اور تشنگانِ حق کو و حدت کے جام پلا کر سیر اب کیا۔تمام سلا سل تصوف کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیا ںہیں لیکن مشائخ نقشبند کی خدمات بے مثال ہیں۔ان جادۂ حق پہ گامزن صوفیائے نقشبند نے نسبت صدیقی کا فیض آگے پہنچاتے ہوئے جن اصولوں پر عمل کیا وہ دعوت و توحید ،اتباعِ سنت،بدعت سے  اجتناب، عزیمت کو رخصت پر ترجیح، اخلاق ِ حسنہ کا رواج،عبادت پہ استقامت اور تقویٰ و تزکیہ کی وصیت ہیں، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ یہ وہ خوشبو ہے جس کا مرکز امیر المومنین سید نا صدیق ِ اکبر رضی اللہ عنہ، سید نا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام اور پھر آگے چل کر خواجہ شمس الدین سید امیر کلال سوخاری سے یہ فیض خواجہ بہاؤالدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہماتک پہنچا۔سلسلہ عالیہ نقشبندیہ وہ راہِ فلاح ونجات ہے جس کا تمام تر انحصار اتباع سنت،وقوف قلبی، خواطرِ نفسی،احترام شریعت، صحبتِ شیخ اور طریقہ عزیمت پر ہے ۔
حضرت خواجہ شیخ سیف الدین مجددی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ‘سالارِ نقشبند ، پیشوائے ملت حضرت امام ربانی مجد د الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور حضرت عروۃ الوثقی خواجہ محمد معصوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے شہزادے ہیں ۔آپ 1049ہجری کو سرہند شریف میں پیدا ہوئے ، گھر کا ماحول چونکہ خالص دینی اور روحانی تھا اِس لیے جیسے ہی سن شعور میں قدم رکھا تو تھوڑی ہی مدت میں قرآن کریم حفظ کرلیا اور پھر علوم ظاہری کی تکمیل بھی تھوڑے عرصہ میں مکمل کرلی،بچپن میں ہی آپ سے کمالات ِ باطنی کا ظہور شروع ہوگیا تھا ، گیارہ سال کے عمر میں آپ کے والد ِ گرامی نے آپ کو فنائے قلب کی بشارت عطافرمائی، غرضیکہ عین شباب میں جملہ کمالات سے سرفراز ہوگئے ‘ آپ کے والد ِ گرامی عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمدمعصوم رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے جد ِ کریم حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے کمالات وخصائص کا عکس جمیل قرار دیا ۔ 
حضرت خواجہ محمد معصوم فاروقی مجددی رحمۃ اللہ علیہ آپ پر بے حد مہربان تھے ‘ آپ نے بادشاہ اورنگزیب ‘ شہزادہ اعظم شاہ اور دیگر ارکانِ سلطنت کی دینی وروحانی نگرانی آپ کے ذمہ لگادی کہ اِن سے سلوک ِ باطنی حاصل کریں ۔آپ کے مزاج میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بدرجہ غایت تھا ۔ شرعی احکام کے اجراء اور بدعت کے سد باب میں سخت گیر تھے ،جب آپ اپنے والد ِ گرامی کے حکم پر سلطان اورنگ زیب کی تربیت کے لیے دہلی پہنچے تو بادشاہ نے خود آ کر استقبال کیا ، قلعہ میں داخل ہونے لگے تو آپ نے دیکھا کہ قلعہ کے دروازے پر دو ہاتھیوں کی مورتیاں ہیں جن پر دو فیل بان سوار ہیںاور چند تصویریں بھی آویزاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس قلعہ میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک یہ مورتیاں اور تصاویرموجود ہیں کیوں کہ اس جگہ رحمت کا فرشتہ نہیں آتا۔ چناں چہ وہ مورتیاں توڑ دی گئیں اورتصاویر کو مٹاد یا گیا تب آپ قلعہ میں داخل ہوئے ۔دوسرے دن آپ نے حکم دیا کہ تمام گانے بجانے والوں اور بدعات کے مرتکبین کو شہر سے نکال دیا جائے ۔ بادشاہ نے اسی وقت قطعی حکم جاری کردیا کہ اس طرح کے تمام لوگ ہندوستان سے نکال دیا جائے ۔ آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر اِس طرح عمل کیا کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا ، جب تک حیات رہے پورے ہندوستان میں کسی کو جرأت نہ تھی کہ کھلم کھلا رقص و سرود کرے یا ڈھولک بجائے ۔آپ کے نمائندے جابجا موجود ہوتے جہاں کہیں ان افعال کی علامت پاتے ‘تنبیہ کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضر ت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ آپ کو ’’ محتسب ِ امت ‘‘ کہتے تھے ، آپ کا دبدبہ اس قدر تھا کہ امراء وسلاطین میں جرأت نہ تھی کہ حضرت شیخ خواجہ سیف الدین کے حضور بلااجازت بیٹھ سکیں ، آپ کی بارگاہ عالی اطلس کی بنی ہوئی تھی جس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے ۔ جس پر آپ تشریف رکھتے تو اس کے اردگرد امراء وسلاطین نہایت ادب سے دستہ بستہ کھڑے رہتے ۔
کچھ عرصہ دارالحکومت میں قیام کے بعد آپ وطن واپس آئے ‘ حضرت عروۃ الوثقی خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد اِن کے جانشین بنے ‘ آپ کا دسترخواں بہت وسیع تھا ، خانقاہ میں ہرروز کم وبیش چار سو آدمی موجود رہتے اور جو شخص جو فرمائش کرتا اُس کے لیے وہی کھانا تیار کیا جاتا۔ اِس افراطِ نعمت کے باوجود سالکان طریقت روحانی کمالات کی بلندی پر پہنچتے تھے ، ایک بار ایک شخص نے غذا میں کمی کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا کہ غذا میں کمی کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے بزرگوں نے اس کام کی بنیاد وقوف ِ قلبی وصحبت ِ شیخ پر رکھی ہے ۔سخت مجاہدہ کا پھل خوارق وکرامات میں ہے اور ہمارے ہاں اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔یہاں تو دوام ذکر اور توجہ الی اللہ واتباع سنت ہے ۔ 
اس بلند مرتبہ کے باوجود آپ کی طبیعت میں بے حد انکسار تھا اکثر نصف شب کے بعد اپنے جد کریم امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار ِ پُر انوار پر حاضری دیتے اور یہ شعر پڑھتے :
من کیستم کہ باتودم دوستی زنم 
چندیں سگانِ کوئے تو یک کمترین منم 
میں کون ہوں کہ تیری دوستی کا دم بھروں ، تیرے کوچے کے بے شمار کتوں میں سے ایک میں کمتریں ہوں ۔
آپ اکثر اپنی گفتگو میں فرماتے کہ میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ کا کتا ہوں ۔حضرت خواجہ شیخ سیف الدین مجددی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کرامات وتصرفات کا خزینہ تھی ، آپ پر اکثر جذب کی کیفیت طاری رہتی ، آپ کی توجہ سے لوگ بے اختیارہوجاتے‘ ہزاروں آدمیوں نے آپ سے فیض حاصل کیا اور طریقت میں کامل بنے۔آپ کا معمول تھا کہ ظہر اور عصر کے درمیان مستورات کے مجمع میں حدیث کا درس دیتے تھے ،ایک روز خلاف ِ معمول درس جلدختم کردیا اور اپنے بڑے صاحبزادے خواجہ محمد اعظم مجددی کو درس جاری رکھنے کا حکم دیا ، اِس کے بعد آپ علیل ہوگئے اور درس حدیث کا اتفاق نہ ہوا ۔ اخیر وقت میں ایک طبیب لایا گیا ، جس کے عقائد اہلسنّت وجماعت کے خلاف تھے ، اسے دیکھ کر فرمایا : ’’ یہ کون سا وقت ہے کہ ایک مخالف ِ مشرب کو میرے پاس لاتے ہو ‘ اِسے دور لے جاؤ‘‘
آپ نے 47برس کی عمر میں 19جمادی الاولیٰ 1096ہجری میں وصال فرمایا اور حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ مبارک سے جنوب کی طرف آرام فرما ہوئے ، مزارِ مبارک پر عالی شان گنبد بنایا گیا ،آپ کے آٹھ بیٹے تھے ‘ سب سے بڑے خواجہ محمد اعظم مجددی رحمۃ اللہ علیہ ظاہری وباطنی علوم میں کامل اور صاحب ِ ارشاد وتصانیف تھے ۔
( مصادرومراجع : روضۃ القیومیہ ،مکتوباتِ معصومیہ ، جہانِ امام ربانی )

٭٭٭٭٭