حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی رحمۃ اللہ علیہ
مجددِ جذب وعشق ، فارسی کے عظیم مفکر اور صوفی شاعر
حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی رحمۃ اللہ علیہ
احوال وملفوظات
تحریر:ڈاکٹر پروفیسر معین نظامی
حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ عالم اسلام کی اُن مایۂ ناز شخصیات میںسرفہرست ہیں جو اپنے علم وفضل ، شعرادب اور حسن اخلاق وکردار کے سبب دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہیں ۔ خاص طور پر حضرت مولانا کو تو یہ بے مثال امتیاز بھی حاصل ہے کہ اِن سے ہمہ گیر محبت کی جاتی ہے اور مختلف زمانوں ، علاقوں اور زبانوں میں اُن کی دل پذیر شخصیت اور گراں قدر افکار کے بارے میں کثیر تعداد میں تصنیف ، تالیف ، تحقیق اور ترجمے کا سلسلہ جاری رہا ہے ، اس وقت دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی زبان ہوگی جس میں حضرت مولانا رومی کی شخصیت اور شاعری کے تعلق سے چند اچھی کتابیں موجود نہیں ہوں گی ۔
حجاز ونجف وکربلا کے باعث ِ افتخار ‘ معنوی فرزند ِجلیل604ھ1207/ء کو بلخ ( موجودہ افغانستان)میں پیدا ہوئے ۔ ان کا علمی وروحانی خانوادہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھا۔یوں دولت ِ صدق وایثار انھیں وراثت میں ملی تھی ۔ اِن کے محترم گھرانے میں ایک ننھیالی رشتہ داری حضرت سلطان ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے خاندانِ عالی سے تھی جس کی برکت سے یہ صدیقی نسب علماومشائخ دولت ِ زہدوتقوی اور ثروت ِ فقر وغنا سے مالامال چلے آرہے تھے ۔
حضرت مولانا کے والد ِ گرامی بہاء الدین محمد بلخی اپنے مسلّمہ علم وفضل اور پارسائی کے سبب سے ’ ’سلطان العلماء‘‘کے لقب ِ عالی سے معروف تھے ۔ اُس عہد میں ایسے بلند پایہ لقب کی اورکوئی نظیر نہیں ملتی ۔ سلطان العلماء کے خطبے ، وعظ اور ارشادات سننے کے لیے اہل دِل دور دراز سے سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور استفادۂ باطنی کرتے ۔ فتویٰ کا منصب بھی ہمیشہ اس گھرانے کی پہچان رہا اور سلطان العلماء بلخ اور گردو نواح کے مفتی اعظم بھی تھے ۔ مفتی کے طور پر دینی خدمت کا یہ بابرکت سلسلہ بعد میں حضرت مولانا رومی نے بھی جاری رکھا اور زندگی کے آخری لمحے تک فتویٰ نویسی ترک نہیں فرمائی۔
مولانا رومی کے والد سلطان العلماء بہا ء الدین اکابر صوفیۂ کرام میں بھی شمار ہوتے تھے اور حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی کے بھائی حضرت شیخ احمد غزالی کے سلسلۂ طریقت سے وابستہ تھے ۔ حضرت ِ رومی نے سب سے زیادہ اپنے جلیل القدر باپ سے کسب ِ فیض کیا ۔ انھوں نے اپنے والد ِ مکرم سے ظاہری علوم وفنون کی تحصیل بھی کی اور باطنی علوم ومعارف کا بہرۂ وافر بھی پایا ۔ بعد میں وہ اپنے والد کے خلیفۂ مجازحضرت سید برہان الدین محقق ترمذی کے باقاعدہ مرید اور خلیفہ ہوئے ،یوں مولانا رومی کے والد ِ بزرگوار اپنے لائق فخر فرزند کے دادا پیر قرار پائے ۔
ذیل کی سطور میں آپ کے ملفوظات جو ’ فیہ مافیہ‘ کے نام سے معروف ہیں ، چند ملفوظات کا اردو ترجمہ قارئین کرام کی نذر ہے۔
(1)نماز صرف یہ ظاہری صورت نہیں ہے ۔ یہ تو نماز کا جسم یا ڈھانچا ہے کیوں کہ نماز کا آغاز بھی ہے اور اختتام بھی ۔ اور جس چیز کا آغاز اور اختتام ہو ، وہ جسم ہوتی ہے ۔ نماز ، تکبیر سے شروع اور سلام پر ختم ہوتی ہے ۔ اسی طرح کلمۂ شہادت کا محض زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ہے کیوں کہ اس کا بھی آغاز واختتام ہے اور جو چیز بھی لفظوں یا آواز کی صورت اختیار کرسکے اور اس کا آغاز واختتام بھی ہو ، وہ ظاہری جسم یا ڈھانچا ہوتی ہے ۔ اس کی روح بے صورت اور بے انتہا ہوتی ہے ۔ اس کا نہ کوئی آغاز ہوتا ہے نہ اختتام ۔ نماز کا یہ مرتبہ انبیائے کرام علیہم السلام کو حاصل رہا ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنھیں نماز کی یہ کیفیت حاصل تھی ۔یوں فرماتے ہیں :’’ یعنی بارگاہِ الہٰی میں بعض اوقات میری ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں نہ کسی پیغمبر کی گنجائش ہوتی ہے ، نہ کسی مقرب فرشتے کی ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ نماز کی روح محض اس کی یہ ظاہری شکل نہیں ہے بلکہ اصل نماز ایسی محویت اور بے خودی ہے جس میں یہ سب ظاہری چیزیں نہیں سماسکتیں ۔ جبرئیل کی بھی ہاں گنجائش نہیں ہوتی ، حالاں کہ وہ روحِ محض ہیں ۔
(۲)اگر تمھیں اپنے بھائی میں کوئی عیب دِکھائی دیتا ہے تو وہ عیب خود تمھی میں ہے جودِکھائی دوسرے میں دیتا ہے ۔ دنیا آئینے کی طرح ہے ۔ تمھیں اس میں اپنا ہی عکس دِکھائی دیتا ہے ۔ ’’ المومن مرأۃ المومن ‘‘ ایک مومن ،دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے ۔تم اپنے آپ سے وہ عیب نکال دو کیوں کہ تمھیں دوسرے کی طرف سے جو دُکھ پہنچتا ہے ، اپنی ہی طرف سے پہنچتا ہے ۔ایک ہاتھی کو پانی پلانے کے لیے کسی چشمے پر لایاگیا ۔وہ پانی میں اپنے آپ کو دیکھتا اور بدک جاتا ۔ وہ سمجھتا کہ کسی اور ہاتھی سے بدک رہا ہے ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ تو خود ہی سے بدک رہا ہے ۔ظلم ، کینہ ، حسد ، حرص ، بے رحمی اور تکبر جیسی تمام برائیاں خود تم میںموجود ہیں اور تمھیں تکلیف نہیں ہوتی ،جب یہ چیزیں کسی اور میں دِکھائی دیتی ہیں تو تم بدک جاتے ہو اور تمھیں تکلیف پہنچتی ہے ۔
(۳)یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے شمس الدین تبریزی کو دیکھا ۔ صاحبو! انھیں تو ہم نے دیکھا ۔ آپ نے کہاں دیکھا ؟ چھت پر اونٹ تو دِکھائی دیتا نہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نے سوئی کا سوراخ دیکھا اور دھاگا ڈالا ۔اچھی کہاوت ہے کہ مجھے دوچیزوں پہ ہنسی آتی ہے ایک یہ کہ کوئی حبشی اپنی انگلیوں کے پور رنگ رہا ہو ، دوسرا یہ کہ کوئی اندھا کھڑی سے سرنکالے ہوئے ہو ۔
ان لوگوں کا اندر اندھا ہے ، ان کے باطن اندھے ہیں جو جسم کے دریچے سے سر باہر نکالے ہوئے ہیں ۔ انھیں کیا دِکھائی دے گا؟ ان کی تعریف یا انکار سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ عاقل کے نزدیک تعریف کرنے والے اور انکار کرنے والے ، دونوں ایک جیسے ہیں ، کیوں کہ دونوں ہی نے نہیں دیکھا ہے ،دونوں یاوہ گوئی کرتے ہیں ، پہلے دیکھنے کی قوت حاصل کرنی چاہیے اور پھر دیکھنا چاہیے ،د یکھنے کی قوت مل جائے تو جب تک وہ خود نہ چاہیں ، انھیں نہیں دیکھا جاسکتا ۔ دنیا میں بہت سے اہل نظر اور واصل باللہ اولیا ہیں ، ان کے علاوہ کچھ اولیا زاری کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں اپنے چھپے ہوئے دوستوں میں سے کسی ایک کی زیارت کرادے ۔ جب تک وہ چھپے ہوئے لوگ خود نہ چاہیں اور جب تک خود انھیں منظور نہ دیکھنے والی آنکھیں رکھتے ہوئے بھی انھیں نہیں دیکھا جاسکتا ۔
اب کی بار تمھیں شمس الدین کی باتوں میں زیادہ لذت ملے گی کیوں کہ عقیدت کا جذبہ آدمی کی کشتی ِ وجود کا بادبان ہے۔ بادبان ہو تو ہوائیں اس کشتی کو عظیم منزل تک لے جائیں گی ،بادبان نہ ہو تو باتیں بے فائدہ ہوں گی ۔عاشق اور معشوق میںخالص بے تکلفی کی کیا ہی بات ہے ۔ یہ تمام تکلفات غیروں کے لیے ہوتے ہیں ، عشق کے سوا ہر چیز اُس پر حرام ہے ۔
(۴)اللہ کی کائنات میں ، ناممکن یا غلط چیز کو برداشت کرنے سے زیادہ مشکل اور کوئی کام نہیں ہے ۔ مثلاً آپ نے کوئی کتاب پڑھ رکھی ہے اس کا متن درست طور پر پڑھا اور صحیح سمجھا ہے ۔ عبارت کو بھی اچھی طرح سے سمجھا ہوا ہے ۔ کوئی صاحب آپ کے پہلو میں بیٹھے ، اس کتاب کو غلط پڑھ رہے ہیں تو کیا آپ برداشت کرلیں گے ؟ ممکن نہیں ہے ۔ اگر آپ نے خود وہ کتاب نہیں پڑھی تو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسرا اُسے غلط پڑھ رہا ہے یا صحیح ۔ کیوں کہ آپ کو خود غلط اور صحیح کی پہچان نہیں ہے ۔ پس ایسی صورت ِ حال کو برداشت کرنا بہت بڑا مجاہدہ ہے ۔ اب جان لیجئے کہ انبیاء اور اولیاء کا مجاہدہ کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ پہلے تو انھوں نے اپنے نفس کے خلاف جہاد کیا ، خواہشیں اور آرزوئیں ترک کیں ۔ اور یہ جہاد اکبر ہے پھر جب وہ منزل پر پہنچ گئے اور مقامِ امن میں مقیم ہوگئے ، انھیں غلط اور صحیح کا پتہ چل گیا اور وہ غلط اور صحیح کو دیکھنے اور سمجھنے لگے ، ایسی حالت میں بھی وہ بہت بڑے مجاہدے میں ہیں ۔ کیوں کہ لوگوں کے تو تمام کام ہی غلط ہیں ۔ وہ انھیں دیکھتے اور برداشت کرتے ہیں ۔ اگروہ برداشت نہ کریں ،ٹوکنے لگیں اور لوگوں کی غلطیاں پکڑنے لگیں تو کوئی بھی اُن کے پاس نہیں ٹھہرے گا اور انھیں سلام تک نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت عظیم ہمت اور حوصلے سے نوازا ہے کہ وہ برداشت کرتے ہیں ، سَو غلطیوں میں ایک غلطی بیان کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کی تعریف کرتے ہیں کہ آپ کی فلاں غلطی بھی صحیح ہے ۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ، ایک ایک کرکے ان تمام غلطیوں کی اصلاح ہوجاتی ہے ۔بالکل یوں ہی جیسے کوئی استاد کسی لڑکے کوخطاطی سکھاتا ہو اور جب تختی لکھوانا شروع کرے تو لڑکا تختی لکھ کر استاد کو دکھاتا ہے ۔ استاد کے سامنے تو وہ سب غلط اور خراب لکھائی ہے ۔لیکن استاد حکمت اور شفقت سے یہی کہے گا کہ یہ سب بہت اچھا ہے اور تم نے بہت عمدہ لکھا ہے ۔شاباش ، بس یہ ایک حرف ذرا خراب لکھا ہے ، اسے یوں لکھنا چاہیے اور وہ حرف بھی کچھ اچھا نہیں لکھا گیا ۔اس طرح استاد اُس سطر کے چند حرفوں کو خراب قرار دے کر اسے سمجھائے گا کہ یوں لکھنا چاہیے اور باقی لکھائی کی تعریف کرے گاتاکہ لڑکے کا دِل نہ ٹوٹ جائے اوراستاد کی تعریف سے اس کی کمزوری کی اصلاح ہوجائے اور اسی طرح آہستہ آہستہ وہ سیکھتا رہے اور مدد پاتا رہے ۔