• اولیائے کرام علیہم الرحمۃ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ

سلسلہ عالیہ قادریہ کی عظیم مقبول ، صاحب ِ تصانیف بزرگ شخصیت
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اعوانوں کا شجرہ نسب شیرخدا مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان ‘مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولادِ امجاد ہیں۔ مناقب سلطانی کے مصنف حضرت سلطان حامد علی رقمطراز ہیں ، اعوان، شیرخدا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی نسل پاک سے ہیں جب سادات عظام نے مختلف مصیبتوں اور پریشانیوں کی وجہ سے وطن چھوڑا اور ایران،ترکستان کے مختلف حصوں میں بودو باش اختیار کی، قبیلہ اعوان چونکہ سادات کرام کا قریبی اور نسبتی تھا اس لئے اس مصیبت اور کٹھن دور میں وہ سادات کے رفیق ومعاون بنے اس وجہ سے ان کی نسبت اعوان میں تبدیل ہوگئی یعنی سادات بنی فاطمہ کی مدد کرنے والے ،جب سادات خراسان سے بسبب تفرقہ، مصیبت اور پریشانی ہجرت کرکے ہندوستان میں داخل ہوئے تو قبیلہ اعوان اس سفر اور ہجرت میں ان کے رفیق سفر بنے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃاللہ علیہ کے آباؤ اجداد وادی سون سکیسر تحصیل نوشہرہ ضلع خوشاب کے گاؤں انگہ میں رہائش پزیر ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد کے مزارات اور متعلقہ مقامات کے آثار اب بھی انگہ اور اس کے گردونواح میں موجود ہیں انگہ کے قبرستان میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے دادا حضرت سلطان فتح محمد رحمۃ اللہ علیہ، آپ کی دادی جان اور نانا جان کے مزارات موجود ہیں ۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ 1039 ھ بمطابق 17 جنوری 1630 عیسوی بوقت فجر ضلع جھنگ کے شہر شور کوٹ میں پیدا ہوئے آپ کے والدماجد کا نام حضرت محمد بازید رحمۃ اللہ علیہ ہے جوکہ حافظ قرآن،صالح اور شریعت کے پابند شخص تھے اور مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں قلعہ شورکے قلعہ دار تھے آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی راستی تھا جو کہ عارفہ کاملہ تھیں آپ پاکیزگی اور پارسائی کی وجہ سے اپنے خاندان میں معروف تھیں آپ کی والدہ نے آپ کا نام،،باھو،، رکھا جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
نام باھو مادر باھو نہاد 
زانکہ باھو، دائمی باھو نہاد 
ترجمہ: باھو کی ماں نے نام باھو رکھا کیوں کہ باھو ہمیشہ ھو کے ساتھ رہا ۔
حضرتِ سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ پیدائشی عارف باللہ ولی تھے آپ نے ابتداء ًباطنی وروحانی تعلیم وتربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی آپ کی پیشانی نورحق س اس قدر منور تھی کہ اگر کوئی کافر آپ کے مبارک چہرے پہ نظر ڈالتا تو فوراً کلمہ طیب پڑھ کر مسلمان ہوجاتا۔ منقول ہے کہ شہر کے تمام ہندو اکٹھے ہوکر آپ کے والد ماجد حضرت بازید محمد رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دایہ آپ کے فرزند ارجمند کو وقت بوقت باہر لانے سے ہمارے دین کا سخت نقصان کرتی ہے آپ مہربانی فرماکر اپنے برخوردار کی سیر وتفریح کا وقت مقرر کردیں ہم اپنے دین کی حفاظت کرنے کے لئے منادی کرنے والا ملازم رکھ لیں گے آپ نے ان کی درخواست منظور فرمائی چناچہ ہندوؤں نے اس کام کے لئے نوکر مقرر کرلئے اور انھیں تاکید کردی کہ جس وقت بازید محمد قدس سرہ العزیز کا صاحبزادہ محمد باھو رحمۃ اللہ علیہ گھر سے باہر تشریف لائے تو فوراً باآواز بلند منادی کردیں جب نوکر منادی کرتے تو ہندو فوراً اپنے مکانوں یا دکانوں میں گھس جاتے۔ آپ بچپن میں رمضان المبارک میں اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ سحری سے لے کر افطاری تک نہیں پیتے تھے یعنی کہ آپ اپنے والدین کی طرح صائم رہتے تھے 
حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ سروری قادری ہے ۔سلسلہ قادری کا آغازغوث الثقلین سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ اس کی دوشاخیں ہیں ‘سروری قادری اور سروری زاہدی، آپ سروری قادری کو ہی اصل قادری یا کامل قادری تسلیم کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں سروری قادری مرشد صاحب اسم اللہ ذات ہوتا ہے وہ جس طالب اللہ کو حاضرات اسم اللہ ذات کی تعلیم وتلقین کرنے سے نوازتا ہے تو اسے پہلے ہی روز اپنا ہم مرتبہ بنا دیتا ہے جس سے طالب اللہ اتنا لا یحتاج و بے نیاز اور متوکل علی اللہ ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر میں مٹی وسونا برابر ہوجاتا ہے تصور اسم اللہ ذات اور باطنی توجہ سے مرشد طالب اللہ کو معرفت الہی کے نور میں غرق کرکے مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔
 آپ اپنی کتب میں فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک مرشد کی تلاش میں رہا مگر مجھے میرے پائے کا مرشد نہ مل سکا چنانچہ آپ اپنا ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک گھڑ سوار نمودار ہوئے جنھوں نے اپنائیت سے آپ کو اپنے قریب کیا اور فرمایا کہ میں علی ابن طالب رضی اللہ عنہ ہوں اور پھر فرمایا کہ آج آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں طلب کئے گئے ہو پھر ایک لمحے میں آپ نے خود کو آقا کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارگاہ پاک میں پایا، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دست مبارک سے بیعت فرمایا اور مجھے اپنا نوری حضوری فرزند قرار دیا اور مجھے مخلوق خدا کی تلقین کرنے کا حکم فرمایا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو باطن میں بیعت فرمایا جب کہ آپ کی ظاہری بیعت حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک ایسے طالب حق کی تلاش میں رہا جسے میں وہاں تک پہنچا سکتا ہوں جہاں میں خود ہوں لیکن مجھے ایسا طالب حق نہیں مل سکا آپ اپنی کتاب رسالہ روحی میں فرماتے ہیں 
ہر کہ طالب حق بود من حاضرم 
ز ابتدا تا انتہا یک دم برم 
طالب بیا طالب بیا طالب بیا 
تارسانم روز اول بخدا 
ترجمہ: ہر وہ شخص جو حق تعالی کا طالب ہے میں اس کے لئے حاضر ہوں میں اسے ابتدا سے لے کر انتہا تک فوراً پہنچا دیتا ہوں طالب آ طالب آ طالب آ کہ میں تجھے پہلے ہی دن اللہ تعالیٰ کے پہنچا دوں،،
آپ ولایت کے انتہائی بلند مرتبے سلطان الفقر پر فائز ہیں آپ نے طالبان ِمولا کی رہنمائی کے لئے ایک سو چالیس کتب تصنیف فرمائی ہیں جن میں عین الفقر،شمس العارفین، رسالہ روحی، کلید التوحید، محک الفقر،سلطان الازکار، دیوان باھو،امیر الکونین، گنج الاسرار،نور الہدی شامل ہیں ۔آپ نے اپنی کتب میں سانسوں والے ذکر تصور اسم اللہ ذات، تصور اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ، تصور کلمہ طیبہ اور علم دعوت القبور کی تلقین کی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے ضرورت مرشد،تزکیہ نفس اور ترک ہوس دنیا کا بار بار زکر فرمایا ہے۔ آپ نے پنجابی شاعری پر مشتمل ایک کتاب ’’ابیات باھو‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ آپ کو پنجابی شاعری کی ایک صنف سی حرفی کا بانی شاعر سمجھا جاتا ہے ۔نقادوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اگر اور کوئی کتاب بھی نہ لکھی ہوتی تو آپ کو پوری دنیا میں متعارف کروانے کے لئے آپ کی ایک ہی کتاب’’ ابیات باھو‘‘ ہی کافی تھی ۔آپ کا وصال یکم جمادی الثانی 1102 ھ بمطابق یکم مارچ 1691 عیسوی بروز جمعرات بوقت عصر ہوا وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک 63برس تھی۔ آپ کا مزار مبارک پنجاب کے ضلع جھنگ کی تحصیل احمدپور سیال کے شہر گڑھ مہا راجہ کے نواح میں واقع ہے جہاں ہر سال جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو آپ کا عرس مبارک منعقد ہوتا ہے جس میں
پوری دنیا سے مسلمان شرکت کرتے ہیں۔
تحریر: محمدانصرمحمود