• اولیائے کرام علیہم الرحمۃ

حضرت شیخ ابونصر موسیٰ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

شہزادۂ غوث اعظم رضی اللہ عنہ،پیکر علم وفضل، سراج الفقہاء ، زین المحدثین 
حضرت شیخ ابونصر موسیٰ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

 

قطب ِ ربانی ، محبوبِ سبحانی ،غوث الثقلین ،سید الاولیاء سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نہ صرف جامع علوم وفضائل تھے بلکہ منبع رُشد وہدایت تھے ۔ آپ آسمان ولایت مہر عالمتاب تھے ، آپ کی رفعت ِ شان اور علومرتبت کا انداز اِس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ہزارہا اولیاء، صلحاء ، علماء اور اکابر ِامت نے بارگاہِ غوثیت مآب میں کسی نہ کسی رنگ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا ہے ۔قلم کویارا نہیں کہ ان تمام بزرگان ِ دین کے فرمودات اور نذرانہائے عقیدت کا احاطہ کرسکے ،ظاہر ہے کہ اِس پروانہ شمع نورِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ عالم گیر ضیاء باریاں جن سے عالم اسلام کی روحانی بارگاہیں آج بھی منور ہیں ، کسی تعارف کی محتاج نہیں۔لیکن ذیل کی سطور میں ہمارا مقصور آپ رضی اللہ عنہ کے شہزادوں میں ایک جلیل القدر صاحبزادے کے احوال وآثار سے کچھ گلہائے عقیدت اپنے قارئین کرام کی نذر کرنا ہے ۔
دارالشکوہ قادری کی تحقیق کے مطابق سیدنا غوث اعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے سب سے آخری نورِ نظراور ہمارے ممدوح الشیخ الامام ضیاء الدین ابونصر موسی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔آپ کی ولادت ِ باسعادت ماہ ربیع الاول 535ہجری میں ہوئی ۔آپ کواپنے عہد میں زبردست فقاہت اور علم حدیث میں مہارتِ تامہ کی وجہ سے ’ سراج الفقہاء ‘ اور ’ زین المحدثین ‘ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ۔فقہ اور حدیث کی تعلیم اپنے والد ِ گرامی سیدنا غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کی نیز بغداد کے دیگر محدثین میں سے شیخ سعید بن النباء رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث ِ مبارکہ کا سماع کیا ۔آپ عظیم الشان اور رفیع المقام بزرگ تھے ۔آپ کو گوشہ نشینی اور خاموشی بہت پسند تھی ۔بڑے بڑے طویل مراقبے کیے کرتے تھے ،مزاج میں فروتنی اور انکسار حد سے زیاد تھا۔بغداد سے قیام ترک کرکے  کچھ مصر میں رہے کر دمشق میں قیام پذیر ہوگئے ۔دمشق اور مصر کی جامعات میں ایک عرصہ تک درس حدیث دیتے رہے ۔آپ طلباء پر نہایت شفیق تھے ، مخلوق خدا نے آپ سے بہت استفادہ کیا ۔آپ کی مکمل زندگی صبر وضبط کا پیکر تھی۔ زندگی میں بے شمار حوادث اور امراض کا سامنا ہوا لیکن ہمیشہ صابر وشاکر رہے ۔قلائد الجواہر میںعلامہ محمد یحییٰ تادنی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ عمر بن حاجب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا : ’’شیخ ابونصر موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ حنبلی المذہب ، شیخ حدیث ، زاہد ،متورع اور ممتاز لوگوں میں سے تھے ‘‘ 
آپ نے یکم جمادی الاخری 618ہجری ( ایک قول پر 602ہجری ) میں دمشق میں وصال فرمایا ۔ مدرسہ مجاہدیہ میں آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور دمشق کے مشہور مقام جہاں کبار اولیائے امت کے مزارات ہیں ’ جبل قاسیون‘ میں آپ کی تدفین ہوئی ۔اللہ تعالیٰ آپ کے صدقے سے عالم اسلام کی خیر فرمائے اور فیضان غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے ہمیں حظ ِ وافر عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ
(مصادر : بہجۃ الاسرار، زبدۃ الآثار ، سیفنۃ الاولیا ، قلائد الجواہر ، سوانح سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ )

تحریر:مفتی محمد زمان سعیدی رضوی