زبدۃ الاصفیاء ،فخر المشائخ، قطب ِ میانوالی
حضرت خواجہ محمد اکبرعلی چشتی میروی رحمۃ اللہ علیہ
آپ نے ساری زندگی یادِ خدا اورامت محمد ی ﷺ کی رہنمائی میں صرف کردی اور مقام ِ رضا پر فائز رہے۔
تحریر: ڈاکٹر عطا المصطفیٰ مظہری
مولانا محمد اکبر علی بن مولانا غلام حسین بن محمد عثمان بن مولانامیاں محمد الیاس بن خدایار بن میاں محمد عبد اللہ1351ھ بمطابق 1884ء موجودہ ضلع میانوالی کے شہر میانوالی(سابقہ ضلع بنوں کے علاقہ بلوخیل) میں پیداہوئے ۔یاد رہے میانوالی 1901 ء میں ضلع بناقدیم زمانے میں موجودہ ضلع میانوالی کا یہ علاقہ دریائے سندھ کے کنارے یعنی کَچھ پر واقع ہونے کی وجہ سے کَچھی کہلاتاتھا آپ کے جد امجد میاں محمد عبد اللہ اپنے فرزند میاں خدایار کے ہمراہ کابل سے میانوالی شہر کے مضافاتی قصبہ موچھ کچہ تشریف لائے تھے، دونوں صاحبان کشف و کرامات تھے ۔ میاں خدایار کوبانی میانوالی میاں علی کے فرزند حضرت سلطان زکریاکے خلف الرشید حضرت میاں علی احمد سے ارادت مندانہ نیاز حاصل تھا۔ میاں خدایار کے والد گرامی میاں محمد الیاس شب زندہ دار عابد تھے ۔
مولانا اکبر علی کے والد گرامی میاں غلام حسین ایک صوفی ودرویش منش انسان تھے اور موضع خان بیگ والہ کچہ کے وانڈھا غلام حسین والہ کے باسی تھے۔ لوگوں کی رشد وہدایت کا فریضہ سرانجام دیتے اور ساتھ کھیتی باڑی بھی فرماتے ،ان کی روحانی وابستگی شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔ مولانا غلام حسین کا یہ علاقہ اکثر بیشتر دریائے سندھ کی طغیانیوں کی زد میں رہتاتھا فصلیں اور مکانات تباہ ہوجاتے چنانچہ لوگ تنگ آکر کچہ سے ہجرت کرکے بلوخیل یعنی موجودہ میانوالی شہر میں آکر آباد ہوجاتے اسی طرح مولانا اکبر علی کے والد گرامی مولاناغلام حسین بھی ہجرت فرماکر بلوخیل موجودہ میانوالی شہر کے محلہ زادے خیل میں سکونت پذیر ہوگئے۔اقوام زادے خیل نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا عام روایت کے مطابق 1880ء کے لگ بھگ اسی محلہ میں ایک چھوٹی سی مسجد کا قیام عمل میں لایاگیا مرورِ زمانہ کے ساتھ یہ مسجد ،جامع مسجد میانوالی کہلانے لگی ۔اس مسجد کا موجودہ نام اکبر المساجد ہے لیکن اب یہ عوام و خواص میں جامعہ اکبریہ کے نام سے مشہورہے۔
حضرت خواجہ محمد اکبرعلی لڑکپن ہی سے عبادات وریاضات کی شوقین تھے ۔ حتیٰ کہ وفات تک یہ ذوق و شوق روز افزوں ہوتارہا اور ماند نہ پڑسکا۔فراغت تعلیم کے بعد جب میانوالی میںاقامت پذیر ہوئے تومسجد کے بیرون صحن کے ایک کونہ میں تہہ خانہ بنوایا شب وروز کااکثر حصہ اسی تہہ خانے میں گزرتا ،صبح کاآغاز نمازتہجد سے ہوتا ان کے ہاں تہجدکا خصوصی اہتمام ہوتاتھا لوگ دور دراز سے نمازتہجد اداکرنے آتے تھے نماز تہجد سے فراغت کے بعد محفل ذکر ہوتی اورمہمانوں کی چائے سے تواضع کی جاتی ،صبح کی نماز کے بعد ترجمۃ القرآن اور تفسیر القرآن کی محفل بھی ہوتی۔ آپ نمازباجماعت کے ہمیشہ پابند رہے حتیٰ کہ مرض الموت میں بھی جبکہ آپ پر بے حد نقاہت طاری تھی دوآدمیوں کے سہارے چل کر نمازباجماعت میں شمولیت کے لیے مسجد تشریف لاتے ،صبح کی نماز کے بعد حجرہ میں تشریف لے جاتے دروازہ بند کرلیتے جملہ اورا د وظائف اور معمولات مشائخ چشت سے فارغ ہوکر نماز اشراق ادا فرماتے اورحجرہ سے باہر تشریف لاتے ، نماز چاشت اور اوابین کے ہمیشہ پابند رہے۔ اکثر روزہ رکھتے مگر اس کی نمائش سے گریز فرماتے نمازاشراق کے بعد درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوتا مثنوی معنوی اور صحاح کی تدریس خود فرماتے پھر حجرہ میں تشریف لے جاتے ،ظہر کی نماز کے بعد قرآن حکیم کی تلاوت شروع ہوتی جو نمازعصر تک جاری رہتی۔ عصر کے بعد گھر تشریف لے جاتے ،مغرب تک قیام فرماتے اور پھر عشاء کی نماز کے بعد رات کی ریاضتیں شروع ہوجاتیں۔ آپ زاہد شب زندہ دار تھے رات ہی اس راز کی پردہ دار ہے کہ آپ کس وقت بستر پر محواستراحت ودرازہوتے۔مولانااکبر علی کے اساتذہ میں صدر العلماء ،قاضی القضاۃ مولانا احمد الدین گانگوی فرنگی محلی ،مولانا نور الزمان کوٹ چاندنہ اور مولانا گل محمد خاں رحمۃ اللہ علیہم نمایاں ہیں۔خداداد جودت طبع کے باعث صرف 22سال کی عمر میں علوم اسلامیہ سے فارغ التحصیل ہونے کا شرف حاصل کیا۔آپ نے 1904 ء میں دورِ حدیث مکمل کرلیا۔
1906 ء میں قطب دوراں حضرت خواجہ احمد میروی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر مشرف بہ بیعت ہوئے اور سلوک کی تمام منازل شیخ کامل کی براہ راست نگرانی میں طے کیں۔1907 ء میں آپ کو خلافت چشتیہ میرویہ سے نوازاگیا۔ غوث زماں حضرت پیر سید مہرشاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سلسلہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرماکر خلافت سے نوازا۔ آپ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے مقربین میں سے تھے آپ کے بارے میں ’’اعلیٰحضرت گولڑوی کے ہم عصر علماء ‘‘کے عنوان سے مہر منیر میں مولانا فیض احمد رحمۃ اللہ علیہ نے تفصیلی سے تحریر فرمایا ۔مولانا اکبر علی کو سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ذاتِ بابرکات سے بے پناہ عقیدت تھی آپ فنا فی الغوث تھے آپ نے اپنے دونوں فرزندوں مولانا غلام جیلانی (1909-1984) اورمخدوم غلام ربانی (1922-1993) کے نام بھی نسبت غوثیہ سے رکھے، مدرسہ کانام بھی مدرسہ اسلامیہ لخدام غوثیہ رکھا اور اپنے لنگر کانام بھی لنگر غوثیہ پسند وتجویزفرمایا۔ جلد ہی آپ کی جلالت علمی کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا ۔طلبا ء تحصیل علوم اور عوام وخواص تحصیل ِفیوض کے لیے جوق درجوق آپ کی بارگاہ ناز میں حاضر ہونے لگے ۔ جس ذات ذوالجلال کے بھروسے پر کام کی ابتداء کی گئی تھی، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس بندہ متوکل کی دستگیری میں دیر نہ ہوئی اور منزلیں آکر شوق قدم چومنے لگیں طلبا ء کی رہائش کیلئے کمرے بھی تعمیر ہوگئے درس قرآن کے ساتھ ساتھ درس نظامی کااجراء بھی کردیاگیا ۔ تمام مسافر طلباء کی جملہ ضروریات خودونوش ،کتب ، لباس اور رہائش کا انتظام مدرسہ کی طرف سے ہوتا ،حضرت صاحب انتہا درجے کے فیاض تھے جو کچھ بھی آتا طلبا پر روزانہ خرچ ہوجاتا۔ کبھی فکر فردا کے لیے رقم بچا کر نہ رکھی۔ ہرجمعرات کو طلبا کے لیے خصوصی دعوت کا اہتمام ہوتا اگر لنگر میں کوئی چیز موجود نہ ہوتی تو قرض لیکر بھی لنگر جاری رکھاجاتا۔ ادارہ میں فاضل تدریس پر مامور تھے، آپ خود حدیث پا ک اور مثنوی شریف کا درس دیاکرتے تھے۔ علم حدیث میں آپ کو بڑا کمال حاصل تھااور ایک ایک حدیث پر سند ومتن اور روایت و درایت کے اعتبار سے انتہائی مدلل بحث فرماتے تھے مولانا روم کی مثنوی جسے عارفین نے زبان پہلوی کا قرآن قراردیاہے ہمیشہ آپ کی توجہ کا مرکز رہی ۔ آپ کا درس مثنوی دور دور تک مشہور تھا اور بڑے بڑے اہل علم اس میں شریک ہوکر متاع طریقت وسلوک سے بہرہ یاب ہوتے تھے۔ مثنوی پرکامل عبور رکھنے کے باوجود بھی اسی کی ہر نئی شرح دیکھنا ضروری سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی لائبریری کا معتد بہ حصہ شروح مثنوی پر مشتمل ہے۔ آپ کے تلامذہ وفیض یافتگان کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن حضرت خواجہ غلام جیلانی چشتی میروی (خلف الرشید)حضرت خواجہ عبدالغفور دریوی (آستانہ دریائے رحمت ‘ اٹک ) حضرت پیر محمد مظہر قیوم (پپپپلاں پپپ شریف) علامہ غلام فرید چشتی (میانوالی)حضرت میاں فضل احمد گیلانی (میانوالی)پروفیسر حافظ محمد اجمل خاں ( ہیڈ علوم اسلامیہ جی سی ،لاہور)اور ماہر درسیات مولانا عبدالحسیب (میانوالی ) نامور اور مشہورِ زمانہ ہوئے ۔
مولانااکبر علی چشتی میروی ۲۷جمادی اولیٰ ۱۳۷۶ھ بمطابق 29دسمبر 1956ء کو واصل بحق ہوئے ۔کمیٹی باغ میانوالی کے وسیع میدان میں آپ کے استاد محترم مولانا احمد الدین گانگوی رحمۃ اللہ علیہ نے نمازجنازہ پڑھائی جس میں انبوہ کثیر نے شرکت کی آپ کامزار انور آپ کی عظیم یادگار اکبر المساجد کے پہلو میں بنایاگیا ہرسال آپ کا عرس پاک اس حقیقت کی یاد دلاتاہے کہ بلھے شاہ اں مرناں ناہیں ،گور پیاکوئی ہور!
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدہ عالم دوام ما